بدھ 22 مئی 2024 کو اسلام آباد کی ایک عدالت نے 284 غیر ملکی شہریوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ ویزا شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان میں ملازمت کر رہے تھے۔ یہ کارروائی تمام غیر ملکیوں اور ان کے آجروں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ امیگریشن قوانین پر اب سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں ویزا قوانین اور تعمیل

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عام وزٹ یا بزنس ویزا آپ کو پاکستان میں کام کرنے کا قانونی حق نہیں دیتا۔ اگر آپ غیر ملکی شہری ہیں، تو آپ کا قانونی قیام صرف اسی زمرے تک محدود ہے جس کا ویزا آپ کے پاس ہے۔ سیاحتی ویزا پر کام کرنا فارنرز ایکٹ 1946 کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

  • وزٹ/ٹورسٹ ویزا: صرف تفریح یا سماجی دوروں کے لیے ہے۔ اس پر کام کرنا ممنوع ہے۔
  • بزنس ویزا: یہ تجارتی مواقع تلاش کرنے یا کانفرنسوں میں شرکت کے لیے ہے۔ اس پر مقامی ملازمت یا تنخواہ وصول کرنا غیر قانونی ہے۔
  • ورک ویزا: یہ صرف ان افراد کے لیے ہے جنہیں کسی رجسٹرڈ پاکستانی کمپنی نے سپانسر کیا ہو، جنہیں بورڈ آف انویسٹمنٹ (BoI) کی کلیئرنس حاصل ہو اور وزارت داخلہ نے منظوری دی ہو۔

اپنے قیام کو قانونی کیسے بنائیں

اگر آپ اس وقت ملک میں موجود ہیں، تو یقینی بنائیں کہ آپ کے دستاویزات آپ کی سرگرمیوں کے مطابق ہوں۔ اگر آپ نے ایسی ملازمت شروع کر دی ہے جس کے لیے ورک ویزا درکار ہے، تو آپ پرانے ویزا پر کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ آپ کو پاکستان آن لائن ویزا سسٹم کے ذریعے اپنی کیٹیگری تبدیل کرنے کے لیے درخواست دینی ہوگی۔

  1. اپنا ویزا اسٹیٹس چیک کریں: آفیشل پورٹل پر لاگ ان کریں اور اپنے قیام کی شرائط اور میعاد چیک کریں۔
  2. توسیع کے لیے درخواست: ویزا ختم ہونے سے کم از کم 15 دن پہلے توسیع کے لیے اپلائی کریں۔
  3. آجر کی سپانسرشپ: اگر آپ ملازمت کر رہے ہیں تو یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس ورک پرمٹ موجود ہے۔
  4. ریکارڈ رکھیں: اپنے پاسپورٹ اور ویزا کی کاپی اپنے پاس رکھیں۔ حکام کبھی بھی چیکنگ کر سکتے ہیں۔

ممکنہ نتائج اور اگلا قدم

ویزا شرائط کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے، ملک بدری، اور دوبارہ داخلے پر پابندی (بلیک لسٹ) ہو سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر، اگر آپ کو اپنے ویزا اسٹیٹس کے بارے میں کوئی شک ہے تو فوری طور پر قریبی پاسپورٹ آفس یا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کریں۔