پاکستان نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو واضح کیا ہے کہ متعدد عسکریت پسند گروہ افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہوں سے اپنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہیں، جو کہ علاقائی سلامتی کے لیے ایک بڑھتا ہوا سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ اسلام آباد نے اس سفارتی بریفنگ کے ذریعے مغربی سرحد پار موجودہ دشمن عناصر کی موجودگی پر اپنی گہری تشویش کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ طویل عرصے سے پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کابل پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ان نیٹ ورکس کا خاتمہ کرے جو ملک بھر میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے والی حملوں میں ملوث ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بریفنگ
اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران پاکستانی مندوبین نے عسکریت پسند دھڑوں کی سرحد پار نقل و حرکت سے جڑے تمام حقائق پیش کیے۔ بنیادی توجہ کا حامل موضوع afghanistan terror safe havens یعنی افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہی اس عالمی فورم پر پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کا مرکز رہا۔ حکام نے تفصیل سے بتایا کہ کیسے یہ گروپس غیر مستحکم علاقوں کا فائدہ اٹھا کر حملے طہ کرتے اور انہیں عملی جامہ پہناتے ہیں۔
حکام کی جانب سے پیش کیے گئے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- دشمن گروہوں کی طرف سے سرحد پار حملوں کے لیے افغان سرزمین کا مسلسل استعمال۔
- عبوری افغان انتظامیہ کی جانب سے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو مؤثر طریقے سے روکنے میں ناکامی۔
- علاقائی سلامتی کی ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں بڑھتا ہوا جانی نقصان۔
- کابل سے انسداد دہشت گردی کے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ اور بین الاقوامی دباؤ۔
اندرونی سلامتی پر اثرات
پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد جیسے شہروں میں رہنے والے عام شہریوں کے لیے یہ سفارتی موقف زمینی حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔ سرحدی صوبوں میں پرتشدد واقعات میں اضافے کے بعد سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ مغربی سرحد سے جنم لینے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے، جس کا براہ راست اثر روزمرہ کے معمولات پر پڑتا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ سرحدی علاقوں کے قریب رہائش پذیر ہیں یا حساس اضلاع میں سفر کرتے ہیں، تو وزارت داخلہ اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات سے باخبر رہیں۔ سوشل میڈیا پر سکیورٹی کے واقعاتی بارے میں غیر مصدقہ افواہیں پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع قریبی ہیلپ لائن پر دیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
دفتر خارجہ کے آئندہ کے بیانات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے تناظر میں عبوری افغان حکومت کے ممکنہ ردعمل پر نظر رکھیں۔ تجزیہ کار اس بات کا بھی جائزہ لیں گے آیا عالمی ادارے عسکریت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے کابل پر کوئی عملی دباؤ بڑھاتے ہیں یا نہیں۔
