پاکستان میں موسم کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق اگلے ہفتے ایک شدید سردی کی لہر ملک بھر میں داخل ہونے کا امکان ہے، جس سے ہر صوبے کے بلند مقامات پر برفباری متوقع ہے۔ اگرچہ شمالی علاقہ جات میں سردیوں میں برفباری معمول ہے، لیکن یہ نیا موسمی نظام پہلے سے کہیں زیادہ وسیع تر علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

پاکستان میں موسم کی صورتحال کو سمجھیں

محکمہ موسمیات کے ماہرین مشرق وسطیٰ سے آنے والے ایک مغربی سلسلے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جیسے ہی یہ نظام مشرق کی طرف بڑھے گا، یہ شمال سے آنے والی سرد ہواؤں سے ٹکرائے گا، جس سے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے علاوہ بلوچستان کے بلند مقامات جیسے زیارت اور کوئٹہ میں برفباری کا امکان ہے۔ پنجاب اور سندھ کے کچھ بلند علاقوں میں بھی سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • شمالی کے پی/جی بی: کالام، مالم جبہ اور ہنزہ جیسے سیاحتی مقامات پر شدید برفباری کا امکان ہے۔
  • بلوچستان: کوئٹہ اور ملحقہ اضلاع میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر سکتا ہے۔
  • پنجاب/سندھ: نشیبی علاقوں میں تیز بارش ہو سکتی ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں ہلکی برفباری کی توقع ہے۔

سردی کی لہر کے لیے تیاری کیسے کریں

درجہ حرارت میں اچانک کمی کے باعث بجلی اور گیس کی طلب میں اضافہ ہوگا۔ اپنے گیس ہیٹر کو کسی ماہر سے چیک کروائیں تاکہ کاربن مونو آکسائیڈ کے اخراج سے بچا جا سکے۔ برفباری والے علاقوں میں رہنے والے افراد کھانے پینے کی اشیاء اور ایندھن کا ذخیرہ ابھی سے کر لیں، کیونکہ راستے بند ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

محکمہ موسمیات (PMD) کی ویب سائٹ یا ایپ پر نظر رکھیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی جانب سے برفباری کے دوران سفر کے لیے جاری کردہ ایڈوائزری پر عمل کریں۔ اگر آپ شمالی علاقوں کا سفر کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو برفباری کا سلسلہ تھمنے تک سفر ملتوی کر دیں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔ شہری علاقوں میں بجلی اور گیس کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لہذا اپنے ضروری کام وقت سے پہلے نمٹا لیں۔