اسلام آباد میں منعقدہ ایک باوقار تقریب کے دوران پاکستان وائلڈ لائف پروٹیکشن ایوارڈز 2026 کے ذریعے ملک بھر میں نایاب نسلوں کے تحفظ کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنے والے محافظوں کو اعزازات سے نوازا گیا۔ یہ تقریب سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی تعاون اور پاکستان میں برٹش ہائی کمیشن کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس میں ملک کے مختلف حصوں بالخصوص گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے فیلڈ ورکرز نے شرکت کی۔

دشوار گزار راستوں پر فرائض انجام دینے والے محافظ

پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں جنگلی حیات کا تحفظ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور دیگر ناہموار خطوں میں کام کرنے والے جنگبان شدید سرد موسم، خطرناک راستوں اور شکاریوں کے گروہوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ان ایوارڈز کا بنیادی مقصد ان افراد کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے جو برفانی چیتھڑے یعنی سنو لیپرڈ، مارخور اور ہمالیائی بھورے ریچھ جیسے نایاب جانوروں کی بقا کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگاتے ہیں۔

اسلام آباد میں ہونے والی اس تقریب کے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی کی سطح پر جنگلی حیات کا تحفظ غیر قانونی شکار کے خلاف سب سے موثر ہتھیار ہے۔ جب مقامی دیہات کے باسیوں کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ جنگلی جانور ان کے ماحول کا قیمتی اثاثہ ہیں، تو نایاب نسلوں کا کٹاؤ رکنا شروع ہو جاتا ہے۔

تقریب کے اہم نکات

  • تقریب کے دوران شاندار کارکردگی دکھانے والے فیلڈ رینجرز، کمیونٹی رہنماؤں اور نوجوان محققین میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔
  • برٹش ہائی کمیشن کے نمائندوں نے پاکستان کے قدرتی تنوع کی تعریف کی اور ماحولیاتی لچک کے منصوبوں کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
  • وزارت کے حکام نے غیر قانونی شکار کے خلاف سزاؤں کو مزید سخت کرنے سے متعلق مجوزہ قانون سازی پر روشنی ڈالی۔

ان مثبت اقدامات کے باوجود زمینی حقائق یہ ہیں کہ جنگلی حیات کے محکموں کو اب بھی فنڈز کی کمی اور سازوسامان کی قلت کا سامنا ہے۔ بیشتر مقامی مبصرین آج بھی پرانے آلات کے ساتھ وسیع و عریض پہاڑی علاقوں میں گشت کرنے پر مجبور ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

پاکستان کے کمزور ماحولیاتی نظام کو بچانے کے لیے آپ کو پہاڑوں پر جا کر پہرا دینے کی ضرورت نہیں۔ عام شہری غیر قانونی طور پر جنگلی جانوروں کی کھالوں یا اعضا سے بنی اشیاء خریدنے سے گریز کر کے، جنگلی حیات کی اسمگلنگ کی اطلاع متعلقہ محکموں کو دے کر اور ایسے سیاحتی اقدامات کی حمایت کر کے اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں جو مقامی آبادی کو قدرت کے تحفظ کا صلا دیتے ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

آنے والے دنوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے صوبائی بجٹ میں کمیونٹی گیم واچرز کے لیے مختص رقوم کا جائزہ لینا ہوگا۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی ادارے یہ بھی دیکھیں گے کہ وفاقی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اسلام آباد سمٹ میں کیے گئے وعدوں پر کہاں تک عملدرآمد کرتی ہے۔