گلاسگو میں جاری کامن ویلتھ گیمز کے دوران ایک پاکستانی باکسر اور کئی قومی ایتھلیٹس کے لاپتہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس نے قومی کھیلوں کی انتظامیہ اور ویزا قوانین پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ 2014 کے گلاسگو کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ کو دہراتا ہے جب میگا ایونٹ کے اختتام یا دورانِ مقابلے متعدد پاکستانی کھلاڑی بھی پراسرار طور پر غائب ہوگئے تھے۔ اسلام آباد اور گلاسگو میں کھیلوں کے حکام ان لاپتہ کھلاڑیوں کی تلاش کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں، جن کی اس طرح کی حرکات نے ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر ملک کی سبزی ہلالی پرچم کی سبق آموزی کو داغدار کیا ہے۔

اس طرح کے واقعات اکثر ایسے افراد کی طرف سے کیے جاتے ہیں جو سرکاری وفود کی آڑ میں غیر قانونی طور پر بیرون ملک مقیم ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گلاسگو میں مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے لاپتہ باکسر اور دیگر کھلاڑیوں کی تلاش کے لیے باضابطہ کارروائی شروع کردی گئی ہے تاکہ ان کے ویزوں کی مدت ختم ہونے سے پہلے ان کا سراغ لگایا جا سکے۔ پاکستانی کھیلوں کے حلقوں کے لیے یہ انکشاف ایک اور بڑا دھماکہ ہے، جو پہلے ہی مالی بحران، انتظامی لاپرواہی اور سلیکشن کے عمل میں اقربا پروری کے الزامات کی زد میں ہیں۔

2014 کے گلاسگو اسکینڈل کی یاد تازہ

کھیلوں کے رپورٹرز کو یہ خبر سن کر 2014 کے گلاسگو کامن ویلتھ گیمز کا وہ اسکینڈل فوراً یاد آ گیا ہوگا جب عین اسی طرح متعدد پاکستانی کھلاڑی ٹیم مینجمنٹ کو بائی پاس کرتے ہوئے اپنی رہائش گاہوں سے غائب ہوگئے تھے۔ اس وقت بھی کھلاڑی مقامی پاکستانی کمیونٹی میں روپوش ہوگئے تھے تاکہ انہیں واپس پاکستان نہ آنا پڑے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور متعلقہ فیڈریشنز کی جانب سے بین الاقوامی دوروں کے لیے حفاظتی اقدامات اور سیکیورٹی پروٹوکول سخت کرنے کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے، لیکن تاریخ نے بالکل اسی شہر میں خود کو دہرا لیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلاڑی اس قسم کے انتہائی اقدامات اٹھانے پر اس لیے مجبور ہوتے ہیں کیونکہ پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں میں کیریئر بنانا معاشی طور پر ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ماہانہ وظائف کی عدم ادائیگی، گرانٹس میں تاخیر اور کارپوریٹ سیکٹر کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بہت سے کھلاڑی ان بڑے ایونٹس کو ملک چھوڑنے کا واحد سنہری موقع سمجھتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے رجحانات کا خمیازہ آنے والے وقتوں میں آنے والے دستوں کو بھگتنا پڑتا ہے کیونکہ غیر ملکی سفارت خانے پاکستانی وفود کے لیے ویزا کے قوانین مزید سخت کر دیتے ہیں۔

اسپورٹس بورڈ اور حکام کا ردعمل

اس تازہ بحران کے سامنے آنے کے بعد وفد کے سربراہان نے فوری طور پر اسکاٹ لینڈ کی مقامی پولیس اور پاکستانی ہائی کمیشن کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے تاکہ تلاشی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ وزارت بین الصوبائی رابطہ اور باکسنگ فیڈریشن پر اس بات کا شدید دباؤ ہے کہ وہ انکوائری کمیشن بنا کر یہ واضح کریں کہ کھلاڑی سیکیورٹی حصار توڑ کر کیسے غائب ہوئے۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اس غفلت کے ذمہ دار عہدیداروں اور کھلاڑیوں کے ضمانتیوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھیں گی، قومی اسپورٹس فیڈریشنز کے انتظامی ڈھانچے میں مزید تبدیلیاں اور برطرفیاں متوقع ہیں۔ پاکستان کے عام کھیلوں کے شائقین کے لیے یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی اب نظامی ناکامیوں اور انفرادی مجبوریوں کی نذر ہوتی جا رہی ہے۔