کمن دولت گیمز کے اختتام پر قومی دستے کے ساتھ وطن واپس نہ پہنچنے والے پاکستانی باکسر قدرت اللہ سکاٹ لینڈ میں لاپتہ ہو گئے۔ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یہ کھلاڑی اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ اسلام آباد کی پرواز پر سوار نہیں ہوا، جس کے بعد بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کے دوران قومی کھلاڑیوں کے بیرون ملک غائب ہونے کے پرانے واقعے کی ایک بار پھر یاد تازہ ہو گئی ہے۔
فیڈریشن کی جانب سے بیرون ملک گمشدگی کی تصدیق
یہ تشویشناک خبر اس وقت سامنے آئی جب سکاٹ لینڈ کی سرزمین سے روانگی سے قبل حکام نے وفد کے ارکان کی گنتی کی۔ قدرت اللہ، جنہوں نے اس کثیر کھیلوں کے ایونٹ میں سبز پرچم کے نیچے شرکت کی تھی، مقررہ مقام پر ٹیم مینجمنٹ کو رپورٹ کرنے میں ناکام رہے۔ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے حکام نے فوری طور پر مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایونٹ کے منتظمین سے رابطہ کیا تاکہ ان کے ٹھکانے کا پتہ لگایا جا سکے، تاہم ابھی تک کسی قسم کی باضابطہ کامیابی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
یہ واقعہ پاکستان کے کھیلوں کے شعبے میں پہلا نہیں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران، بہتر معاشی مواقع یا پناہ کی تلاش میں کئی کھلاڑی، پہلوان، ہاکی کے کھلاڑی اور وفد کے ارکان بیرون ملک دوروں کے دوران غائب ہو چکے ہیں۔ ملک میں سخت ویزا قوانین اور معاشی دباؤ اکثر باہر جانے والے کھلاڑیوں کو اپنے دستے چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے مالی مشکلات کا شکار فیڈریشنز کو سفارتی شرمندگی اور مستقبل کے وفد کے لیے سخت سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مستقبل کے پاکستانی وفود کے لیے اس کے کیا اثرات ہیں
- بین الاقوامی دوروں کے لیے پاکستان سپورٹس بورڈ (PSB) کی طرف سے سخت جانچ پڑتال۔
- غیر ملکی سفارت خانوں کی جانب سے کھیلوں کے ویزے جاری کرنے کے لیے ممکنہ تاخیر یا اضافی مالی ضمانتوں کا مطالبہ۔
- سفری فہرستوں کی نگرانی کرنے والے کھیلوں کے فیڈریشن کے عہدیداروں کے لیے جوابدہی میں اضافہ۔
اسلام آباد میں کھیلوں کے منتظمین کو اب بیرون ملک ملک کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کی جانچ پڑتال کے عمل کے حوالے سے مشکل سوالات کا سامنا ہے۔ جب باصلاحیت کھلاڑی بیرون ملک غائب ہوتے ہیں، تو یہ ان نظامی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے کہ کس طرح قومی فیڈریشنز میڈل ملنے کے بعد اپنے کھلاڑیوں کو مالی اور پیشہ ورانہ طور پر سپورٹ کرتی ہیں۔
آپ کو آگے کیا کرنا چاہیے
اگر آپ روایتی کھیلوں کی ترقی پر نظر رکھتے ہیں یا قومی باکسنگ کی تازہ ترین صورتحال دیکھ رہے ہیں، تو پالیسی میں تبدیلیوں سے متعلق پاکستان سپورٹس بورڈ کے سرکاری بیانات پر نظر رکھیں۔ توقع کریں کہ آنے والے بین الاقوامی کوالیفائرز کے لیے سفری پروٹوکول نمایاں طور پر سخت ہو جائیں گے۔
آنے والے دنوں میں کیا دیکھنا ہے
وزارتِ خارجہ اور میزبان ملک کے محکمہ داخلہ کے ان سرکاری بیانات پر نظر رکھیں کہ آیا کھلاڑی نے قانونی حیثیت کے لیے درخواست دی ہے۔ پاکستان باکسنگ فیڈریشن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک تفصیلی انکوائری رپورٹ جاری کرے گی جس میں یہ بتایا جائے گا کہ گیمز کے آخری دنوں میں یہ سیکیورٹی کی خامی کیسے پیش آئی۔
