پاکستانی کوہ پیما اسماء مشتاق قراقرم کے سلسلے میں واقع سات ہزار سینتالیس میٹر بلند سپنٹک پہاڑ سے اترتے ہوئے اچانک طبی ایمرجنسی کا شکار ہو کر اس ہفتے جان کی بازی ہار گئیں۔ اس افسوسناک واقعے کی تصدیق الپائن کلب آف پاکستان نے کی ہے، جس سے ملک بھر کی کوہ پیمائی کی برادری اور سیاحتی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

سپنٹک، جسے گولڈن پیک بھی کہا جاتا ہے، گلگت بلتستان کے نگر اور بلتستان کے علاقوں میں واقع ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں کوہ پیمائی کے شوق میں مقامی سطح پر بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم بلند ترین چوٹیوں پر مہم جوئی اب بھی انتہائی مشکل اور جان جوکھوں کا کام ہے۔

سپنٹک چوٹی سے واپسی کا افسوسناک مرحلہ

اسماء مشتاق اس بلند و بالا چوٹی سر کرنے کے بعد نیچے اتر رہی تھیں کہ انہیں اچانک صحت کی خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔ زیادہ بلندی پر آکسیجن کی کمی، شدید تھکن اور موسم کی اچانک تبدیلی کوہ پیمائی کے دوران عام خطرات ہیں، تاہم اس طبی ایمرجنسی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بلند پہاڑوں پر مہم جوئی کتنی دشوار گزار ہوتی ہے۔

مہم میں شامل دیگر ساتھیوں اور معاون عملے نے فوری طور پر طبی امداد کی کوشش کی، لیکن سپنٹک پہاڑ کے انتہائی ناہموار اور دورافتاده مقام پر فوری ریسکیو اور انخلا کے کام میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ گلگت بلتستان میں اس قسم کی مہمات کے دوران مقامی پورٹرز، الپائن کلب اور بعض اوقات ملکی عسکری ایوی ایشن کا تعاون حاصل ہوتا ہے، لیکن خراب موسم کی وجہ سے ریسکیو میں تاخیر ہو جاتی ہے۔

ملکی کوہ پیمائی میں حفاظتی انتظامات اور طبی سہولیات

اس دلخراش واقعے نے پاکستان میں کوہ پیمائوں کے لیے حفاظتی پروٹوکولز، بلند پہاڑوں پر طبی امداد اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے نظام پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جہاں غیر ملکی ٹیمیں مہنگے اور وسیع انتظامات کے ساتھ آتی ہیں، وہیں مقامی کوہ پیما اکثر محدود وسائل میں اپنی مہمات جاری رکھتے ہیں۔

الپائن کلب آف پاکستان اور دیگر علاقائی ایڈونچر ایسوسی ایشنز نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ کوہ پیمائی کے راستوں پر بہتر طبی سہولیات اور ایمرجنسی پوائنٹس ہونے چاہئیں۔ جس طرح پاکستانی خواتین اور نوجوان بڑی تعداد میں کوہ پیمائی کے میدان میں آ رہے ہیں، ان کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آگے کیا دیکھنا چاہیے؟

اگر آپ پاکستانی کوہ پیمائی کی خبروں پر نظر رکھتے ہیں، تو الپائن کلب آف پاکستان اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے میت کی منتقلی اور تعزیتی بیانات سے متعلق مزید اپ ڈیٹس کا انتظار کریں۔ نئے کوہ پیماؤں کے لیے یہ واقعہ پہاڑوں کی سختی اور احتیاط کی اہمیت کی ایک تلخ یاد دہانی ہے۔

متعلقہ اداروں سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے پہاڑی سلسوں میں ہنگامی طبی امداد کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔ اسماء مشتاق کی آخری رسومات اور یادگاری تقریبات کے حوالے سے مستند معلومات کے لیے آفیشل بیانات پر نظر رکھیں۔