افغانستان میں قائم طبی درس گاہوں میں زیر تعلیم تقریباً 1300 پاکستانی طلبہ افغانستان کے تعلیمی اداروں کو ڈی لسٹ کیے جانے کے بعد شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان طلبہ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان کے اداروں کے خلاف دیے گئے فیصلے پر فی الفور نظرثانی کی جائے تاکہ ان کا قیمتی تعلیمی سال اور مستقبل برباد ہونے سے بچ سکے۔

پی ایم ڈی سی کے فیصلے سے کیوں کھلبلی مچی؟

اس اچانک انتظامی اقدام نے ملک کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے تیرہ سو خاندانوں کو صدمے میں ڈال دیا ہے۔ ان طلبہ نے انتہائی کڑے حالات میں بیرون ملک داخلے لیے تھے، جہاں فیس اور رہائش کے اخراجات کی مد میں کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔ اب کونسل کی جانب سے اسناد تسلیم نہ کیے جانے کے خوف نے نوجوانوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ وہ وطن واپسی پر لائسنسنگ امتحان دینے کے بھی اہل نہیں رہیں گے۔

طلبہ کے بنیادی مطالبات کیا ہیں؟

متاثرہ نوجوانوں اور ان کے نمائندوں نے اسلام آباد کے پالیسی سازوں سے درج ذیل مطالبات کیے ہیں:

  • افغان تعلیمی اداروں کو ڈی لسٹ کرنے کے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔
  • پہلے سے زیر تعلیم تمام طلبہ کے لیے ایک بار کی خصوصی رعایت یا گرینڈ فادر کلاز نافذ کیا جائے۔
  • اسناد کی تصدیق اور مساوات کے عمل کے لیے وفاقی اداروں کی جانب سے واضح ایس او پیز جاری کیے جائیں۔
  • علاقائی تعلیمی تعاون کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

متاثرہ طلبہ کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز اس مسئلے کی زد میں ہے تو گھبرانے کے بجائے قانونی اور دستاویزی تیاری کریں۔ سب سے پہلے اپنی یونیورسٹی کے داخلے کے تمام کاغذات، فیس کی رسیدیں اور رجسٹریشن کارڈ محفوظ بنائیں۔ دوسرے نمبر پر، سوشل میڈیا کی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے براہ راست پی ایم ڈی سی کی آفیشل ویب سائٹ پر نظر رکھیں۔ اس کے علاوہ قانونی چارہ جوئی کے لیے قائم ہونے والے طلبہ کے اتحادوں کے ساتھ رابطہ قائم کریں۔

آگے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

اب تمام تر نگاہیں وزارتِ قومی صحت اور پی ایم ڈی سی کے بورڈ اجلاسوں پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ اس پالیسی پر نظرثانی کرتے ہیں یا نہیں۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دباؤ برقرار رہا تو پارلیمانی کمیٹیوں میں بھی اس معاملے پر بحث متوقع ہے۔ آپ کو چاہیے کہ کونسل کے آئندہ احکامات اور عدالتوں میں دائر ہونے والی رِٹس کی خبروں پر نظر رکھیں۔