جموں و کشمیر کے پیرا کرکٹر امیر حسین لون کو صدر دروپدی مرمو کے 'ایٹ ہوم' استقبالیہ میں شرکت کی باضابطہ دعوت موصول ہو گئی ہے۔ یہ تقریب 14 اگست کو منعقد ہوگی، جو اس باصلاحیت ایتھلیٹ کی غیر معمولی عزم اور حوصلے کا اعتراف ہے۔ امیر حسین لون نے اپنے بازو نہ ہونے کے باوجود کرکٹ کے میدان میں جو انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، وہ دنیا بھر کے لیے ایک مثال ہیں۔
پیرا کرکٹ کا انوکھا سفر
امیر حسین لون بچپن میں ایک حادثے کے دوران دونوں بازو سے محروم ہو گئے تھے، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ اپنے کندھے اور گردن کے درمیان بلا پکڑ کر بیٹنگ کرتے ہیں اور پاؤں کی مدد سے گیند پھینکتے ہیں۔ ان کی یہ انوکھی تکنیک اور کرکٹ سے لگن نے انہیں کھیلوں کی دنیا میں ایک نمایاں مقام دلایا ہے۔
صدارتی دعوت کی اہمیت
راشٹرپتی بھون میں ہونے والے اس استقبالیہ کی دعوت ملنا ان کے کیریئر کا ایک اہم لمحہ ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے معذور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور معاشرے میں ایک مثبت پیغام جاتا ہے۔ کھیلوں کے حلقوں میں اس اعتراف کو بے حد سراہا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے دیگر کھلاڑیوں کو بھی آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔
آئندہ کے امکانات
مداح اب اس بات کے منتظر ہیں کہ امیر حسین لون مستقبل میں کون سے نئے اعزازات اپنے نام کرتے ہیں۔ اس صدارتی پذیرائی کے بعد خطے میں پیرا سپورٹس کے حوالے سے مزید دلچسپی اور حکومتی تو توجہ دیکھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
