ایک اہم پارلیمانی جائزے میں وفاقی حکومت کے کنٹراسیپٹو کموڈٹیز پروجیکٹ میں منصوبہ بندی اور نفاذ کی سطح پر سنگین بدانتظامی کا انکشاف ہوا ہے، جس سے قومی صحت کے اہداف بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
کنٹراسیپٹو کموڈٹیز پروجیکٹ میں کوتاہیاں
12 اگست 2024 کو پارلیمانی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ ملک بھر میں مانع حمل اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے والا یہ منصوبہ اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ تحقیقات کے مطابق، پروجیکٹ میں بیوروکریٹک تاخیر، ناقص خریداری کی حکمت عملی اور وفاقی و صوبائی محکموں کے درمیان ہم آہنگی کا شدید فقدان پایا گیا ہے۔ ان کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری ہسپتالوں میں ضروری طبی سامان کی عدم دستیابی ایک معمول بن چکی ہے، جس سے عام شہری بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔
ارکان پارلیمنٹ نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ بھاری بجٹ مختص کیے جانے کے باوجود آبادی کے انتظام اور زچہ و بچہ کی صحت پر اس کے اثرات نظر نہیں آ رہے۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ سپلائی چین مینجمنٹ کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے اکثر سامان گوداموں میں پڑے پڑے ضائع ہو جاتا ہے یا دور دراز کے علاقوں تک نہیں پہنچ پاتا۔
عوامی صحت پر اثرات
پاکستان کے عام شہریوں کے لیے ان انتظامی ناکامیوں کا مطلب براہ راست مالی بوجھ اور طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ جب سرکاری مراکز میں سامان ختم ہو جاتا ہے، تو غریب خاندانوں کو نجی فارمیسیوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں قیمتیں کافی زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ صورتحال کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے مانع حمل سہولیات تک رسائی میں بڑی رکاوٹ ہے، جو آبادی پر قابو پانے کی حکومتی کوششوں کو ناکام بنا رہی ہے۔
حکومت کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل
کمیٹی نے وزارت قومی صحت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اب تک کی کارکردگی کا مکمل آڈٹ رپورٹ پیش کرے۔ حکام کو اب ایک نیا روڈ میپ تیار کرنے کا کہا گیا ہے جس میں انوینٹری کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے لیے ڈیجیٹل سسٹم کا قیام شامل ہو۔ عوام کو چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاسوں پر نظر رکھیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا ذمہ داران کا احتساب ہوتا ہے یا نہیں۔ امید ہے کہ کمیٹی آنے والے مہینوں میں ان اصلاحاتی اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لے گی۔
