ایک مسافر جو جعلی امریکی پی آر کارڈ کے ذریعے سعودی عرب کا سیاحتی ویزا حاصل کر کے بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہا تھا، اسے پاکستانی ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے آف لوڈ کر دیا۔ حکام کے مطابق، مسافر نے حسین نامی ایک ایجنٹ کو 2 لاکھ 20 ہزار روپے ادا کیے تھے جس نے اسے یہ جعلی دستاویزات فراہم کی تھیں۔
جعلی امریکی پی آر کارڈ کا اسکینڈل
ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ مسافر نے ویزا کے حصول کے لیے ایجنٹ کی مدد لی، جس نے امریکی مستقل رہائشی کارڈ (PR Card) کی جعلی کاپی تیار کر کے اسے سعودی ویزا کے لیے استعمال کیا۔ ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کلیئرنس کے دوران جب دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی تو یہ کارڈ جعلی ثابت ہوا، جس کے بعد حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مسافر کو پرواز سے اتار دیا۔
ایف آئی اے (FIA) کی ٹیموں نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ ایجنٹ اکثر سادہ لوح شہریوں کو بیرون ملک ملازمت یا سیاحت کا جھانسہ دے کر بھاری رقوم بٹورتے ہیں اور انہیں جعلی دستاویزات تھما دیتے ہیں۔
مسافروں کے لیے انتباہ
اگر آپ بیرون ملک سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ چند باتیں ضرور ذہن میں رکھیں:
- کسی بھی ایجنٹ کے کہنے پر جعلی دستاویزات یا پی آر کارڈ کا استعمال نہ کریں۔
- ویزا کے لیے ہمیشہ متعلقہ ملک کے سفارت خانے کی آفیشل ویب سائٹ سے معلومات حاصل کریں۔
- اگر کوئی ایجنٹ شارٹ کٹ یا 'گارنٹیڈ' ویزا کے نام پر بھاری رقم کا مطالبہ کرے تو سمجھ جائیں کہ یہ فراڈ ہو سکتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
ایف آئی اے حکام اب حسین نامی ایجنٹ کی تلاش میں ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔ امیگریشن کا جدید سسٹم اب انتہائی حساس ہے، جس کی وجہ سے جعلی دستاویزات کے ساتھ پکڑے جانے والے مسافروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے اور انہیں بلیک لسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ قانونی راستے اختیار کریں تاکہ ان کا سفر محفوظ اور قانونی رہے۔
