جنوبی افریقہ کے سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اور کوچ مائیکل اسمتھ کو پاکستان مردوں کی کرکٹ ٹیم کا نیا بیٹنگ کوچ مقرر کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق مائیکل اسمتھ بیٹنگ کوچ کی یہ تقرری تمام فارمیٹس کے لیے دو سالہ معاہدے کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔

دو سالہ معاہدے کی تفصیلات

قومی ٹیم کے مڈل آرڈر اور اوپننگ میں مستقل مزاجی لانے کے لیے مائیکل اسمتھ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کا دو سالہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب قومی ٹیم کو کئی اہم ملکی اور غیر ملکی سیریز اور آئی سی سی ایونٹس کھیلنے ہیں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں بیٹھے کرکٹ شائقین گزشتہ کچھ عرصے سے ٹیم کی بیٹنگ لائن میں ہونے والی مسلسل گراوٹ سے پریشان ہیں، جس کی وجہ سے اس تقرری پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

مائیکل اسمتھ کا بطور کھلاڑی کیریئر زیادہ تر جنوبی افریقہ کے ڈومیسٹک سرکٹ تک محدود رہا ہے، لیکن کوچنگ کے شعبے میں ان کا تجربہ کافی وسیع ہے۔ انہوں نے اس سے قبل مختلف فرنچائزز اور ہائی پرفارمنس سینٹرز میں کام کیا ہے جہاں انہیں تکنیکی بہتری لانے کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ پی سی بی کو امید ہے کہ ان کا تجزیاتی انداز ہمارے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر بہتر کارکردگی دکھانے میں مدد دے گا۔

بیٹنگ یونٹ کو درپیش چیلنجز

قومی ٹیم کو پچھلے دو سالوں میں اسپن اور تیز گیند بازی کے خلاف خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نئے کوچ کو درج ذیل اہم مسائل پر فوری توجہ دینا ہوگی:

  • معیاری اسپن اور تیز رفتار باؤنسرز کے خلاف تکنیکی خامیوں کو دور کرنا۔
  • ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز کے مڈل اوورز میں اسکور کی رفتار بڑھانا اور اسٹرائیک روٹیٹ کرنا۔
  • ٹیسٹ کرکٹ میں طویل دیر تک کریز پر ٹکنے کے لیے ذہنی مضبوطی پیدا کرنا۔
  • ڈومیسٹک کرکٹ کے پرفارمرز اور انٹرنیشنل معیار کے درمیان فرق کو کم کرنا۔

شائقین کے لیے مشورہ

ایک شائقِ کرکٹ کی حیثیت سے آپ کو اس تبدیلی کے عمل میں کچھ صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ تکنیکی تبدیلیاں راتوں رات نہیں آتیں، اس لیے اگلی ہی سیریز سے کسی معجزے کی توقع نہ رکھیے۔ آنے والے میچوں میں کھلاڑیوں کی شاٹ سلیکشن اور وکٹوں کے درمیان دوڑ کو دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کوچ کی محنت کتنی رنگ لا رہی ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

آنے والے اسکواڈ کا اعلان اور لاہور میں لگنے والا ٹریننگ کیمپ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ کھلاڑی مائیکل اسمتھ کے طریقوں کو کتنی جلدی اپنا رہے ہیں۔ سلیکشن کمیٹی اور کوچنگ اسٹاف کے فیصلوں پر کڑی نظر رکھیے گا۔