پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے شرکت کی فیس میں تین گنا اضافے کے تنازع پر دو ٹیموں کو نئے ڈومیسٹک سیزن سے باہر کر دیا ہے۔ فیس بڑھا کر ڈیڑھ کروڑ روپے کرنے پر یہ ڈیڈ لاک سامنے آیا، جس سے لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک بھر کے کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اگر آپ کھیل سے وابستہ ہیں تو اس اچانک فیصلے سے درجنوں پروفیشنل کھلاڑیوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے جو ڈومیسٹک سرکٹ پر انحصار کرتے ہیں۔
شرکت کی فیس میں تین گনা اضافہ
اس تنازع کی بنیادی وجہ فیسوں میں ہوشربا اضافہ ہے جو بورڈ نے عائد کیا۔ پی سی بی نے سالانہ شرکت کی فیس کو تین گنا بڑھا کر ڈیڑھ کروڑ روپے تک پہنچا دیا۔ ٹیموں کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس قدر بھاری مالی بوجھ اٹھانا بغیر کسی مضبوط اسپانسر شپ کے ممکن نہیں۔ دوسری جانب بورڈ کا اصرار ہے کہ یہ اضافہ انتظامی اخراجات اور بہتر سہولیات کے لیے ناگزیر تھا، لیکن متعلقہ فریق طے شدہ ڈیڈ لائن تک یہ رقم جمع کرانے سے قاصر رہے۔
کھلاڑیوں اور ڈومیسٹک اسٹرکچر پر اثرات
ان ٹیموں کے باہر ہونے سے ڈومیسٹک سرکٹ میں مقابلوں کا دائرہ تنگ ہو جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم ٹیموں کا مطلب کم میچز اور کھلاڑیوں کے لیے روزگار کے مواقع میں کمی ہے، جس سے قومی ٹیم کے لیے ٹیلنٹ تلاش کرنے کا عمل بھی متاثر ہوگا۔ متاثرہ ٹیموں سے وابستہ کھلاڑیوں کے معاہدوں اور ماہانہ وظائف پر اب غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ پی سی بی نے تاحال ان کھلاڑیوں کو دوسری ٹیموں میں ایڈجسٹ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کسی متاثرہ ٹیم سے بطور کھلاڑی، کوچ یا آفیشل وابستہ ہیں تو بورڈ کی باضابطہ ویب سائٹ pcb.com.pk پر جاری ہونے والی ہدایات پر نظر رکھیں۔ ٹیموں کی انتظامیہ لاہور میں ہنگامی مشاورتی اجلاس منعقد کر رہی ہے تاکہ فیس میں کمی یا اقساط میں ادائیگی کا کوئی رستہ نکالا جا سکے۔ شائقین اور مبصرین کو چاہیے کہ وہ تازہ ترین فیصلوں کے لیے اسپورٹس پورٹلز سے وابستہ رہیں۔
آنے والے ہفتوں میں کیا دیکھنا ہوگا
اب تمام تر توجہ قذافی اسٹیڈیم میں بورڈ حکام پر ہے کہ آیا سیزن کے فکسچر فائنل ہونے سے پہلے کوئی سمجھوتہ ہو پاتا ہے یا نہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دیگر ٹیمیں بھی فیسوں کے معاملے پر کوئی آواز اٹھاتی ہیں یا بورڈ اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔ اس تنازع سے پاکستان کے ڈومیسٹک اسٹرکچر کی مالی حالت کا کڑا امتحان ہو رہا ہے۔
