صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے پنجاب بھر میں سیلاب کا باضابطہ الرٹ جاری کر دیا ہے کیونکہ چوتھا مون سون سلسلہ صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری ہے اور 5 اگست تک موسلا دھار بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تمام ضلعی انتظامیہ کو پانی کے بڑھتے ہوئے بہاؤ اور شہری سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اگرچہ صوبے کے بڑے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ فی الحال نارمل سطح پر برقرار ہے، تاہم حکام نے کچھ حساس مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کا ریکارڈ درج کیا ہے۔ دریائے سندھ پر کالا باغ کے مقام اور نالہ پلکھو میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد مقامی ٹیموں کو پشتوں کی کڑی نگرانی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جب بادل گرج چمک کے ساتھ بغیر کسی وارننگ کے برستے ہیں تو شہری علاقے پانی کے فوری جمع ہونے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
دریاؤں کے موجودہ بہاؤ اور حساس علاقے
واٹر مینجمنٹ حکام کے مطابق سندھ، چناب اور جہلم کے بیراج فی الحال محفوظ حدود میں کام کر رہے ہیں۔ تاہم پہاڑی علاقوں اور مقامی نالوں بالخصوص راولپنڈی، سیالکوٹ اور نارووال کے گردونواح میں اچانک سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔ چھوٹے نالوں میں بارش کا پانی تیزی سے جمع ہونے کی وجہ سے نشیبی رہائشی علاقوں میں نکاسی آب کا نظام سنبھلنے سے پہلے ہی پانی پھیل سکتا ہے۔
دریاؤں کے کناروں اور بارانی نالوں کے قریب رہنے والے شہریوں کو آنے والے دنوں میں زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ ریسکیو 1122 اور میونسپل عملے کی چھٹیاں اعلیٰ خطرناک اضلاع میں منسوخ کر دی گئی ہیں تاکہ پانی کی سطح خطرناک حد عبور کرنے کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔ ایمرجنسی کنٹرول رومز بالائی علاقوں میں بارش کے تناظر میں چوبیس گھنٹے ٹیلی میٹری ڈیٹا کی نگرانی کر رہے ہیں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کسی نشیبی علاقے میں یا بارانی نالے کے قریب رہتے ہیں، تو اگلی طوفانی بارش سے پہلے حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔ اپنے ضروری کاغذات، فرسٹ ایڈ کا سامان اور پینے کا پانی ایک بیگ میں تیار رکھیں تاکہ بوقتِ ضرورت فوری انخلا ممکن ہو سکے۔
- اگر آپ کی گلی میں باراتی پانی جمع ہونے کا خطرہ ہے تو برقی آلات اور قیمتی سامان کو اوپری منزل پر منتقل کر دیں۔
- تیز بہاؤ والے بارش کے پانی میں گاڑی یا پیدل چلنے سے گریز کریں کیونکہ کھلے مین ہول اور تیز لہریں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔
- اپنے موبائل فونز کو چارج رکھیں اور سوشل میڈیا کی افواہوں پر دھیان دینے کے بجائے سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی موسمیاتی رپورٹس پر بھروسہ کریں۔
آنے والے دنوں میں کن باتوں کا خیال رکھیں
منگلا اور تربیلا ڈیموں کے بالائی ذخائر کی سطح سے متعلق سرکاری اپڈیٹس پر نظر رکھیں کیونکہ مون سون کی مسلسل بارشیں آبی ذخائر کی استطاعت کا امتحان لیں گی۔ ماہرینِ موسمیات موجودہ موسمی نظام کے راستے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ سلسلہ 5 اگست کے بعد بھی برقرار رہتا ہے یا مزید شدت اختیار کرتا ہے۔ ضلعی حکومتیں بڑے شہروں میں سڑکوں کی بندش اور نکاسی آب کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر بلیٹن جاری کرتی رہیں گی۔
