پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ مہபூبہ مفتی نے منگل 4 اگست 2026 کو سرینگر میں ایک احتجاجی مظسرے کی قیادت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ یہ احتجاجی سرگرمی اس وقت سامنے آئی جب خطے کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے سات سال مکمل ہونے پر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ نئی دہلی نے 5 اگست 2019 کو ایک یکطرفہ فیصلے کے ذریعے اس خطے کے خصوصی اختیارات ختم کر دیے تھے۔

سرینگر میں جمع ہونے والے پارٹی کارکنوں اور حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے مہபூبہ مفتی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی جماعت آئینی تبدیلیوں کے خلاف سیاسی و قانونی محاذ پر لڑتی رہے گی۔ انہوں نے 2019 کے فیصلوں کو سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بات پر زور دیا کہ کشمیری عوام نے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ احتجاج کے مقام پر پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی تاکہ صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔

سرینگر میں ساتویں برسی پر احتجاج

جموں و کشمیر میں آئینی دفعات کے خاتمے کی برسی ہر سال سیاسی تناؤ کا باعث بنتی ہے۔ پی ڈی پی رہنماؤں اور کارکنوں نے 4 اگست 2026 کو اس دن کو سیاہ دن کے طور پر مناتے ہوئے وفاقی حکمرانی کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ مہபூبہ مفتی نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک مقبوضہ علاقے کی سابقہ آئینی شناخت بحال نہیں ہو جاتی۔

  • احتجاج کی تاریخ: منگل، 4 اگست 2026
  • مقام: سرینگر، جموں و کشمیر
  • بنیادی مطالبہ: آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کی بحالی
  • قیادت: پی ڈی پی سربراہ مہபூبہ مفتی

پس منظر اور قانونی تبدیلیاں

بھارتی حکام نے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر کے اس خطے کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس اقدام کے ذریعے علاقے کو دو وفاقی حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا اور مقامی قوانین کو معطل کر دیا گیا تھا جو باہر کے لوگوں کو جائیداد خریدنے سے روکتے تھے۔ اس کے بعد سے کشمیری قیادت کی طرف سے لگاتار احتجاج اور مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔

آئندہ کا منظر نامہ

سیاسی تجزیہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس برسی کے موقع پر دیگر مقامی سیاسی جماعتیں کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر عدالتوں میں جاری قانونی چارہ جوئی اور وفاقی حکومت کے ردعمل پر سب کی نظریں مرکوز رہیں گی۔