پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) سے ہزاروں طلبہ کی پی ای ایف بی فارم تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے شراکت دار اسکولوں کو کی جانے والی ماہانہ ادائیگیاں روک دی ہیں۔

اس فیصلے سے پنجاب بھر کے نجی الائنس اور پارٹنر اسکولوں کی انتظامیہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئی ہے، جبکہ غریب خاندانوں کو اپنے بچوں کے بائیو میٹرک اور نادرا قوائف درست کروانے کے لیے نادرا دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔

اہم حقائق ایک نظر میں

- متعلقہ ادارہ: پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) اور نادرا۔
- متاثرہ پروگرام: فاؤنڈیشن اسسٹڈ اسکولز (FAS)، ایجوکیشن واؤچر اسکیم (EVS)، اور ای پی پی اسکیمز۔
- بنیادی وجہ: پی ای ایف کے اسٹوڈنٹ انفارمیشن سسٹم (SIS) اور نادرا ریکارڈ کے درمیان معلومات کا نہ ملنا۔
- فوری اثر: متعلقہ طلبہ کی ماہانہ مالی معاونت اور اسکولوں کے فنڈز کا التوا۔
- سرکاری پورٹل: پی ای ایف اسٹوڈنٹ انفارمیشن سسٹم (`sis.pef.edu.pk`)۔

پی ای ایف نے بی فارم تصدیق پر ادائیگیاں کیوں روکیں؟

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن غریب اور مستحق بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے لیے نجی پارٹنر اسکولوں کو فی طالب علم ماہانہ وظیفہ ادا کرتی ہے۔ تاہم، حالیہ نادرا ڈیٹا کراس چیک کے دوران ہزاروں طلبہ کے بی فارم نمبر، تاریخ پیدائش، اور والد کے شناختی کارڈ کی معلومات میں غلطیاں سامنے آئیں۔

پی ای ایف حکام کے مطابق صوبائی آڈٹ قوانین کے تحت غیر تصدیق شدہ طلبہ کے فنڈز جاری نہیں کیے جا سکتے۔ اس اقدام کا مقصد فرضی اندراج (گھوسٹ اسٹوڈنٹس) کا خاتمہ اور تعلیمی فنڈز کی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

پارٹنر اسکولوں اور والدین پر مالی دباؤ

ادائیگیوں پر پابندی سے لاہور، ملتان، راولپنڈی، گوجرانوالہ، اور فیصل آباد سمیت دیگر اضلاع کے نجی اسکول شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اسکول مالکان کا کہنا ہے کہ پی ای ایف فنڈز رکنے کے باعث اساتذہ کی تنخواہیں اور عمارتوں کے کرائے ادا کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔

شیخوپورہ کے ایک پارٹنر اسکول کے پرنسپل نے بتایا: "ہم جن بچوں کو پڑھاتے ہیں ان کے والدین کی ماہانہ آمدن بہت کم ہے۔ جب پی ای ایف 30 فیصد طلبہ کی ادائیگیاں روک دیتا ہے تو پورا اسکول چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم نہ والدین سے فیس مانگ سکتے ہیں اور نہ اسکول بند کر سکتے ہیں۔"

دوسری جانب، والدین پر اسکولوں کی جانب سے نادرا بی فارم فوری جمع کروانے کا شدید دباؤ ہے۔ جس کی وجہ سے نادرا رجسٹریشن سینٹرز (NRC) پر برتھ سرٹیفکیٹ اور بی فارم بنوانے والوں کا شدید ہجوم دیکھا جا رہا ہے۔

پی ای ایف بی فارم تصدیق کی غلطیاں درست کرنے کا طریقہ

اگر آپ کے بچے کی بی فارم تصدیق کی وجہ سے فنڈز روکے گئے ہیں، تو ان مراحل پر عمل کر کے مسئلہ حل کریں:

  • اسکول سے معلومات لیں: اسکول انتظامیہ سے کہیں کہ وہ پی ای ایف پورٹل (SIS) پر آنے والا خامی کا پیغام دکھائیں۔
  • ضروری دستاویزات جمع کریں: بچے کا یونین کونسل سے جاری شدہ برتھ سرٹیفکیٹ اور والدین کے شناختی کارڈ ساتھ رکھیں۔
  • نادرا سینٹر جائیں: نادرا دفاتر سے نیا بی فارم بنوائیں یا موجودہ ریکارڈ میں نام اور تاریخ پیدائش کی تصدیق کروائیں۔
  • ٹریکنگ سلپ حاصل کریں: نادرا سے ملنے والی 13 ہندسوں کی شناختی رسید یا نیا بی فارم سنبھال کر رکھیں۔
  • اسکول میں جمع کروائیں: نادرا کی رسید یا نئے بی فارم کی کاپی اسکول کے آئی ٹی انچارج کو دیں تاکہ وہ `sis.pef.edu.pk` پر دوبارہ اپ لوڈ کر سکے۔
  • تکمیلی عمل کا انتظار کریں: پی ای ایف مہینے میں دو بار تصدیقی عمل مکمل کرتا ہے، تصدیق ہوتے ہی رکے ہوئے فنڈز اسکول کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے جاتے ہیں۔

آئندہ کے حالات اور پیش رفت

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں بھی صرف انہی طلبہ کا وظیفہ جاری کیا جائے گا جن کا بی فارم نادرا سے مکمل تصدیق شدہ ہوگا۔ صوبائی تعلیمی آڈٹ سخت ہونے کے باعث اب بغیر بی فارم کسی بھی طالب علم کا داخلہ برقرار نہیں رکھا جا سکے گا۔

اسکول مالکان کی تنظیمیوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ دستاویزات کی تصدیق کے دوران جاری ادائیگیاں مکمل طور پر نہ روکی جائیں تاکہ تعلیمی عمل متاثر نہ ہو۔ والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر نادرا دفاتر سے رجوع کریں تاکہ بچوں کی مفت تعلیم بلا تعطل جاری رہ سکے۔