پاکستان میں بزرگ شہریوں کے لیے مہنگائی کا اثر اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب وہ کرایہ ادا کرنے اور جان بچانے والی ادویات خریدنے کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ جن لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ صرف ماہانہ پنشن ہے، ان کے لیے یوٹیلیٹی بلز اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔
پنشنرز کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بحران
مقررہ آمدنی والے افراد شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اگرچہ حکومت وقتاً فوقتاً پنشن میں اضافے کا اعلان کرتی ہے، لیکن دوہرے ہندسوں میں موجود مہنگائی اس اضافے کو ختم کر دیتی ہے۔ ایک ریٹائرڈ شخص جب اپنی پنشن وصول کرتا ہے تو اس کی ترجیح گھر کا کرایہ ادا کرنا ہوتی ہے، جس کے بعد بچوں کی فیس یا بیماریوں کے علاج کے لیے کچھ نہیں بچتا۔
- ماہانہ پنشن گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
- ادویات کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
- بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی اب ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
مقررہ آمدنی کیوں ناکام ہو رہی ہے؟
ملازم پیشہ افراد کے برعکس، ریٹائرڈ افراد کی پنشن میں اضافے کا عمل بہت سست ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے درآمد شدہ ادویات مہنگی ہو گئی ہیں، جس کا براہِ راست اثر ان بزرگوں پر پڑ رہا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر دوا استعمال کرتے ہیں۔ بہت سے پنشنرز اپنی ادویات کی مقدار کم کر دیتے ہیں تاکہ وہ زیادہ دن چل سکیں، جو کہ صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں یا بزرگ شہری ہیں جو مالی مشکلات کا شکار ہیں، تو درج ذیل اقدامات پر غور کریں:
- بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت اپنی اہلیت چیک کریں، جو کم آمدنی والے طبقے کے لیے معاونت فراہم کرتا ہے۔
- حکومت کی جانب سے قائم کردہ سہولت بازاروں سے اشیائے ضروریہ رعایتی نرخوں پر خریدیں۔
- اپنے قریبی ڈسٹرکٹ پنشن آفس سے رابطہ کریں تاکہ یقینی بنائیں کہ آپ کو وفاقی یا صوبائی قوانین کے تحت ملنے والے تمام طبی الاؤنس مل رہے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
جون 2027 میں آنے والے وفاقی بجٹ پر نظر رکھیں۔ بزرگ شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے مطالبہ کر رہے ہیں کہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ایک خصوصی 'میڈیکل ہارڈ شپ فنڈ' قائم کیا جائے۔ اگر یہ منظور ہوتا ہے تو ادویات کے اخراجات میں براہِ راست سبسڈی مل سکتی ہے۔ جب تک ایسی پالیسیاں نافذ نہیں ہوتیں، پنشن اور مہنگائی کے درمیان بڑھتا ہوا فرق بزرگوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ رہے گا۔
