بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج میں ایک تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے جہاں 10 ہزار سے زائد طلبہ اسلامیات کے مضمون میں فیل ہو چکے ہیں۔ پشاور بورڈ کی جانب سے جاری کردہ نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ نتائج کے مطابق اسلامیات جیسے اہم مضمون میں اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کا ناکام ہونا تعلیمی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ روٹی ہوئی یادداشت پر انحصار اور پرچے چیک کرنے کے نئے سخت اصولوں کی وجہ سے طلبہ کو اس مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

پشاور بورڈ میٹرک نتائج 2026 کی اہم تفصیلات:
- شہر: پشاور، خیبر پختونخوا
- تعلیمی بورڈ: بی آئی ایس ای پشاور
- امتحان کا سال: سالانہ امتحانات 2026
- بنیادی مسئلہ: اسلامیات کے مضمون میں 10 ہزار سے زائد طلبہ کی فیل ہونے کی تصدیق
- آفیشل ویب سائٹ: https://www.bisep.edu.pk

طلبہ اتنی بڑی تعداد میں کیوں فیل ہوئے؟

لازمی مذہبی مضمون میں اتنی بڑی تعداد میں فیل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ سکولوں میں پڑھائی کے معیار اور امتحانی پیٹرن میں خامی موجود ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ اب طلبہ سے صرف رٹا لگائے بغیر تصوراتی اور تفصیلی جوابات مانگے جاتے ہیں جن کے لیے سرکاری اور دیہی علاقوں کے سکولوں کے طلبہ مکمل تیار نہیں ہوتے۔ پچھلے کچھ سالوں میں تعلیمی سشنز کے متاثر ہونے اور تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی نے بھی طلبہ کی تیاری پر منفی اثر ڈالا ہے۔

اپنا نتیجہ آن لائن چیک کرنے کا طریقہ

اگر آپ یا آپ کے خاندان کا کوئی فرد اس امتحان میں شریک تھا تو آپ اپنا تفصیلی نتیجہ بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ سے باآسانی چیک کر سکتے ہیں۔ غیر مصدقہ سوشل میڈیا لنکس پر بھروسہ کرنے سے گریز کریں۔ نتیجہ دیکھنے کے لیے درج ذیل مراحل پر عمل کریں:

  • پشاور بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ https://www.bisep.edu.pk پر جائیں۔
  • ہوم پیج پر موجود 'رزلٹس' کے سیکشن پر کلک کریں۔
  • اپنی متعلقہ کلاس (نویں یا دسویں سالانہ 2026) کا انتخاب کریں۔
  • خانے میں اپنا رول نمبر درست درج کریں اور سرچ کا بٹن دبائیں۔
  • آپ اپنا نتیجہ سرکاری کوڈ پر ایس ایم ایس بھیج کر بھی معلوم کر سکتے ہیں۔

طلبہ اور والدین کے لیے اگلے اقدامات

جن طلبہ کے نتائج مایوس کن آئے ہیں انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بورڈ کی جانب سے جلد سپلیمنٹری امتحانات کا شیڈول جاری کیا جائے گا تاکہ طلبہ کا پورا سال ضائع نہ ہو۔ اگر آپ اپنے نمبروں سے مطمئن نہیں ہیں تو نتیجہ آنے کے پندرہ دن کے اندر اندر ری چیکنگ کے لیے درخواست جمع کروائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اساتذہ سے رابطہ کر کے کمزور مضامین بالخصوص اسلامیات کی تیاری کے لیے نئے سرے سے منصوبہ بندی کریں۔