پشاور ہائیکورٹ نے ایک اہم عدالتی حکم جاری کرتے ہوئے افغانستان سے تعلق رکھنے والے دو صحافیوں کو فوری طور پر ملک بدر نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ ان صحافیوں کی جانب سے پاکستان میں قیام کی قانونی درخواستوں پر سماعت کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں وفاقی حکومت کو پابند کیا ہے کہ وہ ان دو صحافیوں کی جانب سے جمع کرائی گئی قیام کی درخواستوں کا جائزہ لے کر انہیں دو ماہ کے اندر نمٹائے۔ اس عدالتی حکم کے بعد، جب تک وفاقی حکومت ان درخواستوں پر حتمی فیصلہ نہیں کر لیتی، متعلقہ حکام کسی بھی قسم کی ملک بدری کی کارروائی نہیں کر سکیں گے۔

  • عدالتی حکم کے مطابق وفاقی حکومت کو دو ماہ کے اندر اندر قانونی تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔
  • دونوں صحافیوں کو اس قانونی عمل کے دوران پاکستان میں قیام کی اجازت دی گئی ہے۔
  • عدالت نے حکومتی اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں قانون کے مطابق شفاف کارروائی یقینی بنائیں۔

افغان صحافیوں کی صورتحال اور قانونی نکات

پاکستان میں مقیم غیر ملکی شہریوں، خاص طور پر صحافیوں کے لیے ویزا اور رہائش کے قوانین میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد یہ معاملہ انتہائی اہم ہو گیا تھا۔ پشاور ہائیکورٹ کا یہ حکم ان افراد کے لیے ایک قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے جو اپنی دستاویزات کی درستی کے لیے کوشاں ہیں۔ عدالتی مداخلت سے یہ واضح ہوا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانونی عمل مکمل ہوئے بغیر ملک سے نہیں نکالا جا سکتا۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا اسی طرح کے امیگریشن یا ویزا مسائل کا سامنا کر رہا ہے، تو ضروری ہے کہ اپنی تمام قانونی دستاویزات کو بروقت اپ ڈیٹ رکھیں۔ وزارت داخلہ کے ساتھ رابطے کے دوران تمام ریکارڈ کو محفوظ رکھیں اور کسی بھی قانونی مشکل کی صورت میں ہائیکورٹ کے وکیل سے مشورہ کریں تاکہ آپ کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔

آئندہ کے لائحہ عمل پر نظر

اب تمام تر توجہ وفاقی حکومت کے اگلے اقدام پر مرکوز ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت دو ماہ کی دی گئی ڈیڈ لائن کے اندر ان درخواستوں پر کیا فیصلہ کرتی ہے۔ یہ کیس مستقبل میں دیگر اسی طرح کے مقدمات کے لیے ایک قانونی نظیر بن سکتا ہے۔ ہم اس معاملے کی پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی کوئی نئی اپ ڈیٹ سامنے آئے گی، قارئین کو آگاہ کیا جائے گا۔