پشاور ہائی کورٹ کے چار ایڈیشنل جج صاحبان نے باضابطہ طور پر کام کرنا بند کر دیا ہے کیونکہ صدر پاکستان نے تاحال ان کی خدمات کی مستقل توثیق کی منظوری نہیں دی۔ پاکستان کے جوڈیشل کمیشن نے ان ججوں کی تقرریاں پشاور ہائی کورٹ کے لیے باقاعدہ سفارش کے ساتھ آگے بڑھائی تھیں، تاہم ایوانِ صدر سے منظوری میں تاخیر نے صوبائی عدالت میں انتظامی تعطل پیدا کر دیا ہے۔

اس تاخیر کا براہ راست اثر پشاور میں واقع ہائی کورٹ کی کام کرنے کی صلاحیت پر پڑا ہے، جہاں پہلے سے ہی مقدمات کا بھاری بوجھ عدالتی وسائل پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان چاروں عہدوں کے معطل رہنے سے عدالت میں آنے والے سائلین کو مزید غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر صدر کی منظوری کا انتظار

بنیادی مسئلہ عدالتی توثیق کے آئینی طریقہ کار سے جڑا ہے۔ جب جوڈیشل کمیشن ایڈیشنل ججوں کو مستقل کرنے کی منظوری دیتا ہے، تو سمری وفاقی دفاتر کے ذریعے صدر مملکت کے پاس حتمی دستخط کے لیے جاتی ہے۔ اس معاملے میں صدارتی نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں ہوا، جس کی وجہ سے ججوں کی عارضی مدت قانونی طور پر ختم ہو چکی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی اداروں اور انتظامیہ کے درمیان طریقہ کار کی یہ سستی اکثر صوبائی عدالتوں میں ججوں کی تعداد کو متاثر کرتی ہے۔ تاہم، ججوں کا اس طرح اچانک کام روکنا پشاور ہائی کورٹ کی روسٹر کمیٹی کے لیے فوری انتظامی مشکلات پیدا کرتا ہے، جنہیں اب زیر التوا فائلوں کو دوبارہ ترتیب دینا پڑ رہا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں مقدمات پر اثرات

ہزاروں رٹ پٹیشنز، فوجداری اپیلوں اور دیوانی تنازعات سے نمٹنے والی صوبائی عدالت میں ہر دن اہم ہوتا ہے۔ چار ایڈیشنل ججوں کے عارضی طور پر ہٹنے سے عدالتی کارروائیوں کی از سر نو تاریخیں دینا پڑیں گی۔

  • متاثرہ بنچوں کے سامنے پہلے سے مقرر مقدمات کی تاریخیں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔
  • ہنگامی نوعیت کے معاملات باقی سائلین کے لیے باقی ماندہ ججوں کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
  • خیبر پختونخوا کے دور دراز اضلاع سے آنے والے سائلین کو تاریخیں تبدیل ہونے سے مشکلات کا سامنا ہوگا۔

سائلین اور وکلاء کو اب کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کا مقدمہ پشاور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے، تو عدالت کا رخ کرنے سے پہلے روزانہ کی کاز لسٹ ضرور چیک کریں یا اپنے وکیل سے مشورہ کریں۔ عدالتی عملہ ججوں کی عارضی معطلی کے بعد بنچوں میں تبدیلیوں کے مطابق مقدمات کی فائلیں اپ ڈیٹ کر رہا ہے۔

کسی بھی ہنگامی نوٹس یا متبادل بنچ کی تخصیص پر نظر رکھنے کے لیے اپنے قانونی نمائندوں سے رابطے میں رہیں۔

پشاور ہائی کورٹ کے اس معاملے پر آئندہ کی نظر

تمام نظریں اب ایوانِ صدر پر ہیں کہ چاروں ایڈیشنل ججوں کی توثیق کا سرکاری نوٹیفکیشن کب جاری ہوتا ہے۔ صدر مملکت کی طرف سے سمری پر دستخط ہوتے ہی جج صاحبان دوبارہ حلف اٹھا کر اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکیں گے۔

اس معاملے کو جلد حل نہ کرنے کی صورت میں انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان ادارہ جاتی تناؤ بڑھنے کا خطرہ ہے۔ نوٹیفکیشن میں مزید تاخیر کی صورت میں بار کونسلز کے ممکنہ ردعمل پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔