پشاور ہائی کورٹ نے deportation of afghan ex-general اور ایک انٹیلیجنس ایجنٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ متعلقہ افراد کی جانب سے افغانستان واپسی پر طالبان کے ہاتھوں مبینہ تشدد کا خوف قانونی طور پر انہیں ملک بدری سے بچانے کے لیے کافی نہیں ہے۔
عدالت کا قانونی موقف
درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ سابق افغان حکومت کے سکیورٹی اداروں میں خدمات انجام دینے کے باعث انہیں وطن واپسی پر جان کا خطرہ ہے۔ تاہم، عدالت نے قرار دیا کہ امیگریشن، ویزا اور رہائش کے معاملات ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں اور ان پر عدالتی مداخلت محدود ہے۔ عدالت کے مطابق، محض ملک بدری کا خوف قانونی چارہ جوئی کی بنیاد نہیں بن سکتا جب تک کہ کوئی ٹھوس قانونی جواز موجود نہ ہو۔
غیر ملکی شہریوں کے لیے اہم نکات
یہ فیصلہ ان تمام غیر ملکی شہریوں کے لیے ایک اہم مثال ہے جو پاکستان میں مقیم ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ:
- ریاستی قوانین اور فارنرز ایکٹ کے تحت غیر ملکیوں کی دستاویزات کا درست ہونا لازمی ہے۔
- انسانی ہمدردی کے جذبات ریاستی خودمختاری اور امیگریشن قوانین پر فوقیت نہیں رکھتے۔
- عدالتیں حکومتی انتظامی فیصلوں میں مداخلت سے گریز کریں گی اگر وہ قانون کے دائرہ کار میں ہوں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا امیگریشن کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، تو یہ ضروری ہے کہ وزارت داخلہ کے ذریعے اپنے ویزا اور رہائشی کاغذات کو قانونی شکل دی جائے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد یہ واضح ہے کہ قانونی دستاویزات کے بغیر قیام کرنے والوں کے لیے عدالتی راستے انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔ اپنے کاغذات کی تجدید کے لیے بروقت رجوع کرنا ہی واحد محفوظ راستہ ہے۔
آئندہ کے ممکنہ اقدامات
حکومت کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کی رجسٹریشن اور ملک بدری کے حوالے سے پالیسی مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔ توقع ہے کہ وزارت داخلہ جلد ہی ان افراد کے لیے مزید لائحہ عمل جاری کرے گی جن کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ حکومتی اعلانات پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی غیر قانونی صورتحال سے بچا جا سکے۔
