پشاور کے علاقے شاہی باغ سب ڈویژن میں آج ایک تشویشناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نشے میں دھت شخص دن دہاڑے پیسکو (PESCO) کے بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف عوامی تحفظ کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ بجلی کے انفراسٹرکچر کی حفاظت اور پشاور میں بجلی چوری کے بڑھتے ہوئے مسائل کو بھی اجاگر کیا ہے۔

پشاور میں بجلی چوری اور خطرات

مقامی ذرائع کے مطابق، نشے میں دھت یہ شخص بجلی کی تاریں چوری کرنے کی غرض سے کھمبے پر چڑھا تھا۔ یہ عمل نہ صرف اس شخص کی اپنی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک تھا بلکہ اس سے علاقے کے بجلی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ پیسکو حکام کو طویل عرصے سے بجلی کی تاریں اور دیگر سامان چوری ہونے کی شکایات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں بجلی کی طویل بندش اور تکنیکی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔

عوامی تحفظ کے لیے خطرات

ہائی وولٹیج بجلی کے کھمبوں پر چڑھنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ جب کوئی شخص بجلی کی لائنوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے، تو اس سے نہ صرف شارٹ سرکٹ کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ یہ پورے علاقے کی بجلی بھی منقطع کر سکتا ہے۔ شاہی باغ کا یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نشے کی لت کس طرح جرائم اور عوامی سہولیات کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہے۔

شہریوں کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ اپنے علاقے میں کسی کو بجلی کے کھمبے پر چڑھتے یا تاروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے دیکھیں، تو براہ کرم درج ذیل اقدامات کریں:

  • براہ راست مداخلت کرنے کے بجائے فوری طور پر پیسکو کی ہیلپ لائن یا اپنے قریبی گرڈ اسٹیشن کو اطلاع دیں۔
  • کھمبے سے محفوظ فاصلہ رکھیں، کیونکہ بجلی کا کرنٹ لگنے یا کھمبے سے گرنے والی اشیاء جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔
  • اگر معاملہ مجرمانہ سرگرمی کا ہو، تو فوری طور پر پولیس کی مددگار 15 سروس پر کال کریں۔

مستقبل میں کیا توقع ہے؟

توقع کی جا رہی ہے کہ حکام اس واقعے کی تحقیقات کریں گے کہ ایک مصروف علاقے میں کوئی شخص کس طرح اتنی آسانی سے بجلی کے کھمبے تک پہنچ گیا۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے علاقے میں اس طرح کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک حرکت کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔