موجودہ فیول ریٹس اور قیمتوں میں اضاف کی تفصیلات

ملک بھر میں تیل کی کھپت کرنے والوں کو ایک بار پھر ماہانہ بجٹ میں کٹہرے کا سامنا ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں باضابطہ طور پر ماہ اگست کے لیے ردوبدل کر دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی منظوری اور سفارشات کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں 5 اگست سے نافذ العمل ہیں۔

اگر آپ آج گاڑی یا موٹر سائیکل میں تیل ڈلوا رہے ہیں تو پیٹرول 328 روپے 56 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 385 روپے 86 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس تازہ ترین اضافے میں پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جو بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں اور روپے کی قدر کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

روزمرہ مسافروں اور ٹرانسپورٹ پر اثرات

لاکھوں روزانہ سفر کرنے والوں، موٹر سائیکل سواروں اور پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے لیے ان نرخوں کا مطلب گھریلو مالیات پر فوری بوجھ ہے۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی اور پشاور سمیت بڑے شہروں میں مسافر گاڑیوں اور مال بردار ٹرکوں کے کرایوں پر بھی اس کا اثر پڑنے کا قوی امکان ہے کیونکہ آپریٹرز بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

موٹر سائیکل سواروں اور کار مالکان کو پیٹرول پمپوں پر جاتے ہی اس کا احساس ہو جاتا ہے۔ پی ایس او، شیل، ٹوٹل اور دیگر کمپنیوں کے پمپوں پر ایک مکمل ٹینک بھروانے کے لیے پچھلے مہینوں کے مقابلے میں اب زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے

موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر اپنے فیول کے اخراجات کو سنبھالنے کے لیے ہوشیار رہنا ضروری ہے۔ اپنے ماہانہ بجٹ کو سنبھالنے کے لیے ان چند طریقوں پر عمل کریں:

  • روزانہ کے سفر کا حساب رکھیں اور غیر ضروری سفر سے بچنے کے لیے ایک ہی چکر میں کئی کام نپٹائیں۔
  • گاڑی کے ٹائروں میں ہوا کا دباؤ درست رکھیں اور انجن کی باقاعدہ ٹیوننگ کروائیں تاکہ فیول کی بچت ہو۔
  • اگر آپ روزانہ طویل سفر کرتے ہیں تو ساتھیوں یا ہمسایوں کے ساتھ کارپولنگ کا بندوبست کریں۔
  • اوگرا کی سرکاری ویب سائٹ ogra.org.pk پر نظر رکھیں تاکہ آئندہ fortnightly جائزوں سے باخبر رہیں۔

آئندہ چند ہفتوں میں کیا متوقع ہے

صارفین اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو آنے والے دنوں میں بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر نظر رکھنی چاہیے۔ چونکہ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی سپلائی چین یا مقامی کرنسی میں ہونے والی ہر تبدیلی اگلے جائزے میں قیمتوں کے گھٹنے یا بڑھنے کا فیصلہ کرے گی۔ پمپوں کا رخ کرنے سے پہلے سرکاری اعلانات سے ضرور آگاہ رہیں۔