وفاقی حکومت نے دو ہفتہ وار جائزے کے بعد ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 3 روپے 39 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 4 روپے 7 پیسے فی لیٹر سستا کر دیا گیا ہے۔
اس قیمت میں کمی کے بعد پیٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 328 روپے 56 پیسے مقرر کی گئی ہے جبکہ ڈیزل اب 385 روپے 86 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ یہ ردوبدل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
مہنگائی کے تناظر میں عام آدمی پر اثر
موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں پر روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کے لیے یہ ریلیف انتہائی معمولی ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی کا 50 لیٹر کا ٹینک فل کرواتے ہیں تو آپ کو صرف دو سو روپے کے قریب بچت ہوگی، جو موجودہ مہنگائی کے دور میں بہت کم ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹرز اور مال بردار گاڑیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ چند روپے کی یہ کمی کرایوں یا اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کا باعث نہیں بن سکتی۔
- پیٹرول کی نئی قیمت: 328 روپے 56 پیسے فی لیٹر
- ڈیزل کی نئی قیمت: 385 روپے 86 پیسے فی لیٹر
- کمی کی مالیت: پیٹرول 3.39 روپے اور ڈیزل 4.07 روپے فی لیٹر
قیمتوں کا تعین کیسے ہوتا ہے؟
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ہر پندرہ دن بعد عالمی مارکیٹ کے نرخوں، درآمدی لاگت اور حکومت کی عائد کردہ لیویز کا حساب کتاب کر کے نئی قیمتیں طے کرتی ہے۔ پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز اس قیمت کا سب سے بڑا حصہ ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں بڑی کمی کے باوجود پاکستانی صارفین کو اس کا پورا فائدہ نہیں ملتا۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اس معمولی کمی کی وجہ سے اپنی سفری روٹین میں بہت زیادہ تبدیلی نہ لائیں۔ اگر آپ کاروباری مقاصد کے لیے گاڑियां چلاتے ہیں تو اپنے ایندھن کے ماہانہ بجٹ کا حساب رکھیں لیکن اس چھوٹی سی کمی پر کرائے کم کرنے کی جلدی نہ کریں۔ گاڑی کی بروقت ٹیوننگ اور ٹائروں میں ہوا کا مناسب دباؤ برقرار رکھ کر آپ پیٹرول کی مزید بچت کر سکتے ہیں۔
آئندہ پندرہ دنوں میں کیا توقع رکھیں؟
عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں اور روپے کی قدر پر نظر رکھیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ اگلے جائزے میں قیمتیں کس طرف جائیں گی۔ مشرق وسطیٰ کے حالات اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پالیسیوں کی وجہ سے توانائی کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اگر عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوا تو یہ معمولی کمی ختم بھی ہو سکتی ہے۔
