ملک بھر میں گاڑیوں کے مالکان کے لیے فیول پمپ پر کسی قسم کا ریلیف سامنے نہیں آیا کیونکہ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ آج گاڑی یا موٹر سائیکل میں تیل ڈلوانے نکل رہے ہیں، تو آپ کو وہی پرانی قیمتیں ادا کرنا ہوں گی جو تازہ ترین ریگولیٹری جائزے کے بعد نافذ العمل ہیں۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ نرخ 6 اگست تک لاگو رہیں گے۔ گھریلو بجٹ چلانے والے افراد ہوں یا کمرشل ٹرانسپورٹ کے مالکان، یہ بلند ترین نرخ ماہانہ اخراجات پر مسلسل بوجھ بنے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت اور ڈیزل کے نرخ

باقاعدہ سفری اخراجات اور مال برداری کے شعبے پر ان قیمتوں کا گہرا اثر پڑ رہا ہے کیونکہ ملک کے تمام بڑے شہروں اور شاہراہوں پر فیول کے نرخ برقرار ہیں۔

  • پیٹرول (موٹر اسپرٹ): 333 روپے 01 پیسے فی لیٹر
  • ہائی اسپیڈ ڈیزل: 383 روپے 62 پیسے فی لیٹر

یہ نرخ پورے ملک میں یکساں نافذ ہیں، تاہم بعض دور دراز اضلاع میں ٹرانسپورٹ اخراجات کی وجہ سے پمپس پر معمولی فرق ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود بڑے شہروں کے تمام سرکاری فیوم پمپس پر یہی قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔

اوگرا اور حکومت کا فیصلہ

قیمتوں کا یہ نظام اوگرا کی جانب سے دو ہفتے بعد کیے جانے والے جائزوں پر منحصر ہوتا ہے، جو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں اور پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کے نرخ کا حساب لگاتے ہیں۔ 6 اگست کو ختم ہونے والے اس دورانیے کے لیے وفاقی انتظامیہ نے کسی بھی کمی یا اضافے سے گریز کیا ہے۔

اس طرح کے فیصلے براہ راست اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹر کیے جانے والے مہنگائی کے اشاریوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے، سبزیوں کے دام اور روزمرہ اشیاء کی ترسیل کے اخراجات انھی اعداد و شمار سے جڑے ہوئے ہیں۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

چونکہ ایندھن کی قیمتیں 6 اگست تک منجمد ہیں، اس لیے آپ کو چاہیے کہ اپنے روزمرہ کے سفر کو بہتر طریقے سے پلان کریں تاکہ ایندھن کی بچت ہو سکے۔ ذاتی اخراجات کو قابو میں رکھنے کے لیے کارپولنگ یا جہاں ممکن ہو پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں۔

آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور کرنسی کی صورتحال پر نظر رکھیں۔ اگلا ریگولیٹری جائزہ موجودہ دورانیے کے اختتام پر ہوگا، جہاں عالمی مارکیٹ کی ہلچل کے بعد اوگرا کی جانب سے نئی قیمتوں کا اعلان متوقع ہے۔