وفاقی حکومت نے petrol price in pakistan (پاکستان میں پیٹرول کی قیمت) میں ایک بار پھر ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کا اطلاق 21 اگست سے ہو چکا ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول کی قیمت میں 27 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 1 روپے 64 پیسے فی لٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔

حالیہ اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ اور ملکی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں

نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد اب صارفین کو ایندھن کے لیے اضافی رقم ادا کرنی ہوگی۔ نئی قیمتوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- پیٹرول کی نئی قیمت: 337 روپے 78 پیسے فی لٹر (پہلے یہ قیمت 337 روپے 51 پیسے تھی)
- ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت: 364 روپے 70 پیسے فی لٹر (پہلے یہ قیمت 363 روپے 06 پیسے تھی)
- اطلاق کی تاریخ: 21 اگست

اگرچہ پیٹرول کی قیمت میں 27 پیسے کا اضافہ بظاہر معمولی نظر آتا ہے، لیکن ڈیزل کی قیمت میں ہونے والا اضافہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو براہِ راست متاثر کرے گا، جس سے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور سمیت ملک بھر کے شہریوں پر مالی بوجھ بڑھے گا۔

قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر سے ہوتا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور دیگر کمپنیوں کے درآمدی اخراجات کو مدنظر رکھ کر نئی قیمتوں کا فارمولا تیار کرتی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ جاری سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرامز کے تحت حکومت پر پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے پر سخت پابندی ہے۔ اسی وجہ سے وزارت خزانہ کو عالمی منڈی کے اثرات براہ راست عوام تک منتقل کرنے پڑتے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) وفاقی حکومت کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جس کے باعث عالمی قیمتوں میں معمولی کمی کا فائدہ بھی عوام تک نہیں پہنچ پاتا۔

عوامی ٹرانسپورٹ اور مہنگائی پر اثرات

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے بڑا اثر مال بردار گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پڑتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں زیادہ تر اشیائے خوردونوش اور زرعی اجناس کی نقل و حمل ڈیزل پر چلنے والے ٹرکوں کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے کرایوں میں اضافے سے روزمرہ کی اشیاء مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ اور آن لائن رائیڈ ہائلنگ سروسز استعمال کرنے والے شہریوں کو بھی آنے والے دنوں میں زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شہریوں کے لیے اہم مشورے

موجودہ حالات میں جب ایندھن کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب ہیں، اپنے سفری اخراجات کو قابو میں رکھنے کے لیے درج ذیل اقدامات کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں:
- سفر کی منصوبہ بندی: غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ایک ہی چکر میں اپنے تمام کام نمٹانے کی کوشش کریں۔
- گاڑی کی دیکھ بھال: اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کی وقت پر ٹیوننگ کروائیں۔ ٹائروں میں ہوا کا مناسب دباؤ اور صاف ایئر فلٹر ایندھن کی کھپت کو 10 فیصد تک کم کر سکتے ہیں۔
- کار پولنگ کا استعمال: اگر آپ روزانہ دفتر یا یونیورسٹی جاتے ہیں تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر گاڑی کا استعمال کریں تاکہ ایندھن کا خرچ بانٹا جا سکے۔
- معیاری پٹرول پمپس کا انتخاب: ہمیشہ معروف اور معتبر پٹرول پمپس سے ایندھن بھروائیں تاکہ پیمانے اور معیار میں کسی قسم کے نقصان سے بچا جا سکے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

اوگرا کی جانب سے قیمتوں کا اگلا جائزہ مہینے کے آخر میں لیا جائے گا، جس کا اطلاق یکم تاریخ سے ہوگا۔ معاشی تجزیہ کار اس دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی پوزیشن پر گہری نظر رکھیں گے۔

اگر عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو شہریوں کو اگلے پندرہ روز بعد مزید اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ درست معلومات کے لیے وزارتِ توانائی اور اوگرا کے سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں۔