پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے باوجود وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں ایندھن کی کہیں بھی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔ وزیر کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ کے باوجود حکومت نے سپلائی چین کو مستحکم رکھا ہے تاکہ عوام کو پیٹرول پمپس پر کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پیٹرول کی قیمت اور فراہمی کی صورتحال
وزیر پیٹرولیم نے تسلیم کیا کہ پیٹرول مہنگا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح ایندھن کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔ ماضی میں دیکھی جانے والی پیٹرول کی قلت سے بچنے کے لیے وزارت نے لاجسٹک اور درآمدی نظام کو بہتر بنایا ہے۔ عام شہریوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ جیب پر بوجھ زیادہ ہے، لیکن پیٹرول پمپس پر ایندھن کی عدم دستیابی کا بحران فی الحال پیدا نہیں ہوا ہے۔
سمندری حدود میں آف شور ڈرلنگ کا آغاز
توانائی کے شعبے میں طویل مدتی بہتری کے لیے حکومت نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق، 'ترکش پیٹرولیم' پاکستان کے سمندری حدود میں آف شور ڈرلنگ شروع کرنے جا رہی ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف مقامی سطح پر تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس کے بعد پاکستان میں بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
- منصوبے کی نوعیت: سمندری حدود میں تیل اور گیس کی تلاش۔
- متوقع فوائد: توانائی کے درآمدی بل میں کمی اور غیر ملکی سرمایہ کاری۔
- شراکت دار: ترک پیٹرولیم کمپنی۔
عوام کے لیے اگلا لائحہ عمل
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں کا انحصار عالمی منڈی کے رجحانات اور روپے کی قدر پر رہے گا۔ عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ہر پندرہ دن بعد جاری ہونے والے نوٹیفکیشن پر نظر رکھیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگر آف شور ڈرلنگ کے نتائج مثبت رہے تو مستقبل میں توانائی کے شعبے میں پاکستان کی خود انحصاری بڑھے گی، جس سے عام آدمی پر بوجھ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
