آئی ایم ایف کے جاری کردہ بیل آؤٹ پروگرام کی سخت شرائط کے باعث ملک بھر کے تمام صارفین کے لیے کسی بھی قسم کی پیٹرول سبسڈی دینا بالکل ناممکن ہو چکا ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے واضح کیا ہے کہ قومی خزانے پر بوجھ ڈالے بغیر ہر شہری کو فیول پر ریلیف فراہم کرنے سے ملکی معاشی استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں پٹرول پمپس پر عام شہریوں کو مہنگے داموں ایندھن خریدنا پڑ رہا ہے کیونکہ حکومت کے پاس عالمی مالیاتی ادارے کے دباؤ کی وجہ سے قیمتیں کم کرنے کی گنجائش نہیں۔ اس کے باوجود، حکومت کا اصرار ہے کہ کم آمدنی والے طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے مخصوص فلاحی ذرائع اب بھی فعال ہیں۔ اگر آپ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث روزمرہ کے سفر کے لیے پریشان ہیں، تو یہ جاننا ضروری ہے کہ موجودہ فلاحی نظام کیسے کام کرتا ہے اور آپ کس طرح حکومتی معاونت حاصل کر سکتے ہیں۔

عالمی قرضے کی شرائط اور فیول ریلیف کی بندش

معاشی مجبوریوں کی وجہ سے وزارتِ خزانہ کے پاس پٹرول پمپ پر کسی بھی قسم کی عوامی ریلیف دینے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخ بدلنے کے بعد حکومت پیٹرولیم لیوی اور جنرل سیلز ٹیکس کے ذریعے محصولات اکٹھی کرتی ہے جو براہِ راست وفاقی بجٹ کا حصہ بنتے ہیں۔ تمام شہریوں کو سستا ایندھن فراہم کرنے سے چند ہفتوں کے اندر قومی خزانے میں اربوں روپے کا خسارہ پیدا ہو سکتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے قیمتوں پر مصنوعی کیپس کو معیشت کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے عام پبلک کے فنڈز غیر ضروری طور پر خرچ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقتصادی ٹیم نے فی الحال عام صارفین کے لیے کسی بھی ریلیف پیکیج کے امکانات کو رد کر دیا ہے۔

سرکاری امداد کے لیے اصل حق دار کون ہیں

عام موٹر سائیکل یا کار مالکان کو تو کوئی رعایت نہیں ملے گی، تاہم کم آمدنی والے افراد بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) اور یوٹیلیٹی ریلیف کے تحت مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ اہلیت کا انحصار گاڑی کی ملکیت کے بجائے آپ کے مالیاتی اسکور پر ہے۔

  • وہ گھرانے جن کا غربت کا اسکور مقررہ حد سے کم ہے۔
  • یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، بیوہ خواتین اور نجی یا سرکاری اداروں کے کم تنخواہ دار ملازمین۔
  • وہ شہری جن کی ماہانہ آمدنی ایف بی آر کی ٹیکس حد سے کم ہے۔
  • بجلی اور گیس کے لائف لائن سلیب میں شامل صارفین۔

فلاحی امدادی اسکیموں کے لیے اپلائی کرنے کا طریقہ

آپ پٹرول پمپ پر جا کر رعایتی قیمت کا مطالبہ تو نہیں کر سکتے، لیکن مہنگائی سے بچاؤ کے لیے حکومتی ڈیٹا بیس میں اپنی رجسٹریشن ضرور چیک کروا سکتے ہیں۔ درج ذیل مراحل پر عمل کریں:

  1. اپنے 13 ہندسوں کا شناختی کارڈ نمبر (CNIC) بی آئی ایس پی کے مقرر کردہ شارٹ کوڈ 8171 پر ایس ایم ایس کریں۔
  2. سسٹم کی طرف سے موصول ہونے والے جوابی پیغام میں اپنی اہلیت اور تصدیق کی صورتحال کا جائزہ لیں۔
  3. اگر آپ کا اسٹیٹس غیر تصدیق شدہ ہے تو اپنے قریبی تحصیل دفتر میں اصل شناختی کارڈ اور بجلی کے بل کے ساتھ جائیں۔
  4. کاؤنٹر پر بائیو میٹرک تصدیق کروائیں تاکہ آپ کے خاندان کا ڈیٹا اپ ڈیٹ ہو سکے۔
  5. تصدیق مکمل ہونے کے بعد مقررہ بینک اے ٹی ایمز یا فرنچائزز سے اپنی امدادی رقم وصول کریں۔

آگے کیا ہونے کی توقع ہے

ماہانہ بنیادوں پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری ہونے والی قیمتوں پر کڑی نظر رکھیں۔ اگرچہ براہِ راست ایندھن پر ریلیف بند ہے، لیکن پالیسی ساز بڑے شہروں میں طلبہ اور کم اجرت والے ملازمین کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے وزارتِ خزانہ کی باضابطہ ہدایات کا انتظار کریں تاکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں سے بچا جا سکے۔