نئے جاری کردہ مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی وصولی ریکارڈ 1.57 ٹریلین روپے تک پہنچنے کے بعد آپ کے گھریلو بجٹ پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اگرچہ صوبائی سرپلس اور سود کے کم بل کی وجہ سے مالیاتی خسارہ کم ہو کر 2.6 فیصد پر آ گیا ہے، لیکن عام شہریوں کو فیول پمپ پر اس بھاری ٹیکس کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد یا کسی بھی چھوٹے شہر میں ماہانہ اخراجات پورے کرنے والے ہر شخص کے لیے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیوں نہیں آ رہی۔

سرکاری اخراجات میں اضافہ اور ایک ٹریلین کی حد عبور

تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ فیول سے ریکارڈ رقوم اکٹھی کرنے کے باوجود سرکاری مشینری کے اندر کفایت شعاری نہیں کی گئی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار سول حکومت چلانے کے اخراجات میں 16 فیصد اضافہ ہوا اور یہ پہلی بار ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئے۔ دوسری طرف، دفاعی اخراجات میں 18 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ جب حکومت اپنے مالی معاملات کو سنبھالنے کے لیے پیٹرولیم لیوی جیسے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرتی ہے، تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس جاتا ہے۔

آپ کے روزمرہ کے اخراجات پر اس کا اثر

جب حکومت پیٹرولیم لیوی کے ذریعے 1.57 ٹریلین روپے حاصل کرتی ہے، تو اس کا فوری اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں، بجلی کی پیدگاوار اور سبزیوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ جب بھی پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ڈیوٹی عائد ہوتی ہے، دیہی علاقوں سے شہروں تک سامان پہنچانے کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔

  • ٹرانسپورٹ کے کرایے زیادہ رہتے ہیں جس سے سفر مہنگا ہو جاتا ہے۔
  • اشیائے خوردونوش کی مہنگائی برقرار رہتی ہے کیونکہ فریٹ چارجز ڈیزل کی قیمتوں سے جڑے ہیں۔
  • بالواسطہ ٹیکس تنخواہ دار طبقے کی بچت کو ختم کر رہے ہیں۔

آپ کو آگے کیا کرنا چاہیے

چونکہ حکومت کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور فیول کی قیمتیں زیادہ ہیں، اس لیے آپ کو اپنی ذاتی مالیات کو بچانے کے لیے اخراجات محدود کرنا ہوں گے۔ اپنے ماہانہ فیول کے استعمال کا جائزہ لیں، کار پولنگ کے متبادل تلاش کریں، اور روزمرہ کی مہنگائی پوری کرنے کے لیے قرض لینے سے گریز کریں۔ حکومت کے آئندہ مالیاتی فیصلوں اور اوگرا کی جانب سے جاری ہونے والی ماہانہ قیمتوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ آپ اپنے بلوں کا بہتر انداز میں انتظام کر سکیں۔