پاکستان میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی مالی سال 26-2025 کے دوران 1.567 ٹریلین روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوام کی جیبوں سے قومی خزانے میں کتنا بڑا حصہ منتقل ہوا ہے۔ 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے اس مالی سال میں حکومت نے اپنے نظرثانی شدہ ہدف 1.498 ٹریلین روپے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور 69 ارب روپے زائد وصول کیے۔
عام پاکستانی کے لیے، یہ اعداد و شمار صرف سرکاری فائل کا حصہ نہیں، بلکہ یہ اس بھاری قیمت کا عکاس ہیں جو آپ پیٹرول پمپ پر ادا کرتے ہیں۔ جب آپ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل میں ایندھن ڈلواتے ہیں، تو قیمت کا ایک بڑا حصہ عالمی منڈی کے نرخ نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے لگائی گئی لیوی ہے، جسے حکومت خسارہ پورا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
پیٹرولیم لیوی اور آپ کی قوت خرید
پیٹرولیم لیوی پیٹرول اور ڈیزل کے ہر لیٹر پر عائد ایک مقررہ ٹیکس ہے۔ دیگر ٹیکسوں کے برعکس، یہ ایک فکسڈ رقم ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود حکومت کے پاس قیمتیں کم کرنے کی گنجائش محدود رہتی ہے۔ جب حکومت محصولات کے اہداف کو بلند رکھتی ہے، تو اس کا براہِ راست اثر آپ کے ماہانہ بجٹ پر پڑتا ہے کیونکہ آپ کو ایندھن کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
روزمرہ کے اخراجات پر اثرات
اس وصولی کا اثر صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بھی پڑتے ہیں۔ پاکستان میں ٹرانسپورٹ کا نظام ڈیزل پر انحصار کرتا ہے۔ جب حکومت لیوی کی مد میں بھاری رقوم اکٹھی کرتی ہے، تو ٹرانسپورٹرز ایندھن کی یہ لاگت سبزیوں، آٹے اور دودھ جیسی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں شامل کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً، مہنگائی کا بوجھ بالآخر آپ پر ہی پڑتا ہے۔
- براہ راست اثر: پیٹرول پمپ پر زیادہ قیمت ادا کرنے سے آپ کی بچت کم ہو جاتی ہے۔
- بالواسطہ اثر: ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
- معاشی حقیقت: حکومت ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کے بجائے پیٹرولیم لیوی کو آمدنی کا سب سے آسان ذریعہ سمجھتی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ، اب آپ کو حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنی ہوگی۔ اگر حکومت مزید محصولات کے ہدف حاصل کرنے کے لیے لیوی میں مزید اضافہ کرتی ہے، تو آپ کے ماہانہ اخراجات پر دباؤ برقرار رہے گا۔ آپ وزارت خزانہ اور اوگرا (OGRA) کی ویب سائٹس کے ذریعے قیمتوں میں تبدیلیوں کے سرکاری نوٹیفکیشن دیکھ سکتے ہیں۔ جب تک حکومت آمدنی کے متبادل اور منصفانہ ذرائع نہیں ڈھونڈتی، پیٹرولیم لیوی آپ کے بجٹ پر بوجھ بنی رہے گی۔
