پنجاب فوڈ اتھارٹی (PFA) نے جہلم میں ملاوٹ مافیا کے خلاف اپنی مہم کو تیز کرتے ہوئے ہزاروں لیٹر جعلی سافٹ ڈرنکس اور بڑی مقدار میں ملاوٹ شدہ نمک کو تلف کر دیا ہے۔

پی ایف اے راولپنڈی ڈویژن کی ٹیموں نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے 2300 لیٹر جعلی کاربونیٹڈ مشروبات اور 10 من سے زائد ملاوٹ شدہ نمک قبضے میں لیا۔ یہ اشیاء انتہائی غیر حفظان صحت ماحول میں تیار کی جا رہی تھیں، جو شہریوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ تھیں۔ تمام قبضے میں لی گئی اشیاء کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا تاکہ انہیں مارکیٹ میں فروخت ہونے سے روکا جا سکے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن اور عوامی تحفظ

پی ایف اے صوبے بھر میں مشروبات اور بنیادی اشیائے خورونوش تیار کرنے والی چھوٹی فیکٹریوں کی نگرانی کر رہی ہے۔ ملاوٹ شدہ نمک، جس میں اکثر مضر صحت کیمیکل ملائے جاتے ہیں، انسانی صحت کے لیے زہر قاتل ہے۔ اسی طرح، ناقص پانی اور غیر معیاری رنگوں سے تیار کردہ جعلی مشروبات پیٹ اور گردوں کی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

صارفین کے لیے ضروری ہدایات

بازار سے اشیاء خریدتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:

  • پیکنگ پر پی ایف اے کا رجسٹریشن نمبر ضرور دیکھیں۔
  • مینوفیکچرنگ اور ایکسپائری تاریخ کو چیک کریں، اگر تاریخ دھندلی ہو تو وہ پروڈکٹ نہ خریدیں۔
  • پیکنگ کی سیل چیک کریں، اگر سیل ٹوٹی ہوئی ہو تو اسے استعمال نہ کریں۔
  • نمک کا معیار دیکھیں، اگر اس میں رنگت یا سخت ڈھیلے نظر آئیں تو اسے خریدنے سے گریز کریں۔

آئندہ کا لائحہ عمل

پی ایف اے نے اعلان کیا ہے کہ جہلم کے تمام علاقوں میں غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اگر آپ کو اپنے علاقے میں کسی ایسی جگہ کا علم ہو جہاں غیر معیاری اشیاء بن رہی ہوں، تو آپ پی ایف اے کی ہیلپ لائن 1223 پر یا ان کی ویب سائٹ pfa.gop.pk پر شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف بھاری جرمانے اور فیکٹریوں کو مستقل سیل کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔