پشاور ہائی کورٹ نے افغان صحافیوں کی بدربستگی کی کارروائی عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان کی درخواستوں پر ۶۰ دنوں کے اندر حتمی فیصلہ کرے۔ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے خیبر پختونخوا میں مقیم دو افغان صحافیوں کی ان درخواستوں پر سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا جس میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ افغانستان واپسی کی صورت میں ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اہم حقائق ایک نظر میں

- عدالتی حکم: پشاور ہائی کورٹ نے دو افغان صحافیوں کی جبری بدربستگی معطل کر دی۔
- وفاق کو مہلت: وزارت داخلہ کو ۶۰ ایام کے اندر کیس پر حتمی فیصلہ کرنے کی ہدایت۔
- پنجاب کے اعداد و شمار: پنجاب سے اب تک ۱۴۰,۴۶۸ غیر قانونی افغان باشندے واپس بھیجے جا چکے ہیں۔
- موجودہ صورتحال: عدالتی حکم نامہ عارضی ہے جبکہ ملک بھر میں واپسی کی مہم جاری ہے۔

افغان صحافیوں کی بدربستگی پر عدالتی حکم نامے کی تفصیلات

ہائی کورٹ کے فیصلے نے ان افغان صحافیوں کو عارضی راحت فراہم کی ہے جو کابل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ سرحد پار بھیجے جانے کی صورت میں ان کی زندگی اور پیشہ ورانہ آزادی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ عدالت نے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی اداروں کو حکم دیا کہ جب تک کیس کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا جاتا، ان کے خلاف کوئی حتمی اقدام نہ اٹھایا جائے۔

عدالت کی جانب سے مقرر کی گئی ۶۰ دن کی مہلت کے دوران وزارت داخلہ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا ان صحافیوں کو انسانی بنیادوں پر خصوصی رعایت، تیسرے ملک کی منتقلی کے لیے وقت یا پاکستان میں قیام کی توسیع دی جا سکتی ہے یا نہیں۔

ملک گیر مہم اور پنجاب میں ۱۴۰,۰۰۰ سے زائد اخراج

یہ عدالتی فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان بھر میں غیر قانونی مقیم غیر ملکی شہریوں کی واپسی کی مہم تیزی سے جاری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پنجاب کی صوبائی حکومت نے اب تک ۱۴۰,۴۶۸ افغان باشندوں کو عملدرآمد کے طریقہ کار کے تحت ان کے وطن واپس بھیج دیا ہے۔

یہ کارروائی ہولڈنگ سینٹرز کے ذریعے کی جا رہی ہے جہاں بغیر ویزا، افغان سٹیزن کارڈ (ACC) یا رجسٹریشن کارڈ (PoR) کے رہنے والے افراد کو رکھا جاتا ہے اور بعد ازاں تورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے واپس روانہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی عملی تدابیر خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد میں بھی جاری ہیں۔

متاثرہ صحافیوں اور پناہ گزینوں کے لیے عملی رہنمائی

اگر آپ یا آپ کا کوئی واقف کار افغان صحافی یا پناہ گزین ہے اور اسے قانونی مسائل کا سامنا ہے تو درج ذیل اقدامات پر عمل کریں:
- دستاویزات کی فراہمی: یو این ایچ سی آر (UNHCR) کے رجسٹریشن کاغذات، ویزا درخواستیں اور عدالتی حکم نامے کی کاپیاں ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔
- قانون دانوں سے رابطہ: کسی بھی کارروائی سے قبل قانونی امداد فراہم کرنے والی کمیٹیوں یا انسانی حقوق کے وکلا کے ذریعے درخواستیں دائر کریں۔
- صحافتی تنظیموں کو مطلع کریں: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کو اپنے کیس کی تفصیلات فراہم کریں۔
- عدالت سے رجوع: جبری بدربستگی کا نوٹس ملنے پر متعلقہ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

آنے والے دو ماہ کے دوران وفاقی وزارت داخلہ کو پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا وفاق صحافیوں اور حساس پیشوں سے وابستہ افغان شہریوں کے لیے کوئی خصوصی پالیسی وضع کرتا ہے یا کیس ٹو کیس کی بنیاد پر فیصلے جاری رکھے جاتے ہیں۔