خیبر پختونخوا پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) ڈیپارٹمنٹ نے بالا دیر میں ہیضے کے ممکنہ پھیلاؤ کی اطلاعات کے بعد ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت پانی کے نمونے جانچنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ مقامی سطح پر صحت کے خد اس وقت بڑھے جب اشیری درہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ہیضے کے مشتبہ کیسز سامنے آئے، جس پر سرکاری اداروں نے پینے کے پانی کی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے فوری کارروائی شروع کی۔

بالا دیر میں پانی کے ہنگامی ٹیسٹ

متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی پی ایچ ای کی ٹیمیں مقامی چشموں، ندی نالوں اور کمیونٹی واٹر سپلائی اسکیموں سے پانی کے نمونے اکٹھے کر رہی ہیں۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ آلودگی کے اصل سبب کا پتہ لگانے اور بیماری کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے بالا دیر میں ہیضے کے تناظر میں پانی کی جانچ انتہائی ضروری ہے۔ لیبارٹری تجزیے کے ذریعے پانی میں نقصان دہ بیکٹیریا کی موجودگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اشیری درہ کی زمینی صورتحال

بالا دیر کے علاقے اشیری درہ اور اس کے گردونواح میں صاف پانی کے بنیادی ڈھانچے کا فقدان ایک پرانا مسئلہ ہے۔ یہاں کے بیشتر گھرانے غیر محفوظ قدرتی چشموں کا پانی استعمال کرتے ہیں جو بارش کے دوران آسانی سے آلودہ ہو جاتے ہیں۔ زمینی سطح پر کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز نے مکینوں میں پانی صاف کرنے والی گولیاں تقسیم کرنا شروع کر دی ہیں اور ہدایت کی ہے کہ جب تک رپورٹ نہیں آتی، پانی ابال کر استعمال کیا جائے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ بالا دیر میں مقیم ہیں یا آپ کے عزیز وہاں موجود ہیں، تو اپنی صحت کی حفاظت کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
- پینے کے پانی کو استعمال کرنے سے پہلے کم از کم ایک منٹ کے لیے لازمی ابالیں۔
- کچی سبزیوں اور غیر محفوظ پانی سے دھلے ہوئے کھلے کھانوں سے پرہیز کریں۔
- اگر خاندان میں کسی کو اسہال یا شدید پانی جیسی شکایات ہوں تو فوری طور پر قریبی بنیادی صحت مرکز (BHU) سے رجوع کریں۔

آگے کیا توقع کی جائے

صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے اکٹھے کیے گئے پانی کے نمونوں کی لیبارٹری رپورٹس اگلے چند روز میں متوقع ہیں۔ بالا دیر کی وادیوں میں موبائل میڈیکل کیمپوں کے قیام اور ویکسینیشن مہم سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے محکمہ صحت کے اعلانات پر نظر رکھیں۔