موسیقی کی دنیا کے لیجنڈ فل کولنز نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ بی بی سی ریڈیو 2 کے پروگرام 'ٹریک بائی ٹریک' میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے بیشتر مشہور گانے کسی طویل منصوبہ بندی کے بجائے اسٹوڈیو میں فی البدیہہ (improvised) انداز میں تخلیق کیے گئے تھے۔
فل کولنز کے گانوں کے پیچھے کی حقیقت
دہائیوں تک مداح یہی سمجھتے رہے کہ 'ان دی ایئر ٹونائٹ' جیسے شاہکار گانے بہت زیادہ محنت اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔ تاہم، کولنز نے واضح کیا کہ وہ کبھی بھی گانا لکھنے سے پہلے اس کا ڈھانچہ پہلے سے تیار نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اکثر ایک تال یا سادہ سی دھن سے کام شروع کرتے تھے اور گانے کو قدرتی طور پر ڈھلنے کا موقع دیتے تھے۔
یہ انکشاف اس موسیقار کے کام کرنے کے انداز کو سمجھنے کے لیے ایک منفرد جھلک فراہم کرتا ہے جس نے 80 اور 90 کی دہائی کی موسیقی پر راج کیا۔ کولنز کا ماننا ہے کہ سخت قوانین کے بجائے اپنے جذبات کی پیروی کرنا زیادہ بہتر نتائج دیتا ہے۔
تخلیقی عمل کیسے کام کرتا تھا؟
انٹرویو کے دوران کولنز نے بتایا کہ اس طریقے نے انہیں ان احساسات کو قید کرنے میں مدد دی جو شاید بہت زیادہ سوچ بچار کے بعد ختم ہو جاتے۔ انہوں نے کچھ اہم نکات شیئر کیے:
- پہلے سے لکھے ہوئے بول نہیں: ان کے بیشتر مشہور بول اس وقت تخلیق ہوئے جب وہ ابتدائی دھن پر گنگنا رہے ہوتے تھے۔
- تال کی بنیاد: وہ عموماً ڈرم کی تال سے شروعات کرتے تھے جو گانے کی بنیاد بنتی تھی۔
- جذباتی بے ساختگی: انہوں نے تکنیکی مہارت سے زیادہ ریکارڈنگ سیشن کے دوران محسوس ہونے والے جذبات کو ترجیح دی۔
اب کیا ہوگا؟
اگرچہ فل کولنز صحت کے مسائل کی وجہ سے اب کنسرٹس سے دور ہیں، لیکن ان کی موسیقی کا اثر آج بھی برقرار ہے۔ دنیا بھر کے مداح اب ان کے پرانے گانوں کو ایک نئی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ان میں چھپے ہوئے ان لمحات کو تلاش کر رہے ہیں جن کا ذکر انہوں نے حال ہی میں کیا ہے۔ بی بی سی ریڈیو 2 کے آفیشل پلیٹ فارمز پر اس انٹرویو کا مکمل ریکارڈ موجود ہے جو کسی بھی موسیقی کے شوقین کے لیے ایک بہترین سبق ہے۔