پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری اور اصلاحاتی عمل کو اس وقت بڑا دھچکا لگا ہے جب ادارے کے ممکنہ چیف ایگزیکٹو افسر ٹیوولڈے گیبریماریام نے بھارتی فضائی کمپنی ائیر انڈیا میں جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسلام آباد اور کراچی کے ایوی ایشن حلقوں نے تصدیق کی ہے کہ تجربہ کار عالمی ایوی ایشن ایگزیکٹو اگلے ماہ ائیر انڈیا کی باقاعدہ کمان سنبھالیں گے۔ اس پیش رفت کے بعد قومی ایئرلائن کی انتظامی بحالی کے منصوبے ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔
یہ اعلیٰ سطحی انتظامی نقصان ایسے نازک وقت پر سامنے آیا ہے جب حکومت ملک کی قومی ایئرلائن کو مالی خسارے سے نکالنے کے لیے اس کی نجکاری اور ری اسٹرکچرنگ کے عمل کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ صنعت کے ماہرین کے مطابق گیبریماریام جیسے باصلاحیت اور تجربہ کار غیر ملکی ایگزیکٹو کی خدمات حاصل کرنا خسارے میں جانے والے ادارے کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم، بھارتی فضائی کمپنی نے تیزی دکھاتے ہوئے ان کی خدمات حاصل کر لیں اور نجکاری کے بعد اپنی جارحانہ حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔
پی آئی اے کی نجکاری اور قیادت کے لیے چیلنجز
ممکنہ چیف ایگزیکٹو افسر کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پی آئی اے کی انتظامی تشکیل نو کا پہلے سے سست روی کا شکار عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ایوی ایشن ڈویژن اور کمیشن برائے نجکاری کے سامنے ایک قابل اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ٹرناراؤن ماہر کو تلاش کرنا اب سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ غیر ملکی یا ملکی سطح کے تجربہ کار سربراہ کے بغیر ادارے کے بوجھل عملے، پرانے قرضوں اور یورپ و برطانیہ کے روٹس کی بحالی کا کام انتہائی مشکل ہو جائے گا.
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ائیر انڈیا بھی نجکاری کے باوجود مالی مشکلات کا شکار رہی ہے، لیکن اس کے کارپوریٹ مالکان نے اعلیٰ ترین انتظامی ٹیلنٹ پر بھاری سرمایہ کاری کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کے سرکاری اداروں میں بیوروکریٹک تاخیر اور تنخواہوں کی حدود بین الاقوامی ایوی ایشن ماہرین کو ملکی اداروں کا رخ کرنے سے روکتی ہیں۔
مسافروں اور عام شہریوں پر اس کا اثر
قومی ایئرلائن پر سفر کرنے والے عام پاکستانیوں کے لیے اس انتظامی خلا کا مطلب سروس کے معیار، ٹکٹوں کی قیمتوں اور فلیٹ کی بہتری کے حوالے سے مزید طویل غیر یقینی ہے۔ اگرچہ عبوری انتظام کے تحت اندرون و بیرون ملک پروازیں جاری ہیں، لیکن طویل المدتی اسٹریٹجک اصلاحات کے لیے مستحکم اور وژنری قیادت کا ہونا ناگزیر ہے۔ اگر آپ اکثر پی آئی اے کی پروازوں پر سفر کرتے ہیں، تو آپ کو اس وقت تک کسی بڑی انتظامی تبدیلی یا فوری بہتری کی توقع نہیں رکھنی چاہیے جب تک کوئی مستقل سی ای او تعینات نہیں ہو جاتا۔
- عبوری انتظامیہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور سے روزانہ کی پروازوں کے معاملات چلاتی رہے گی۔
- نجکاری کمیشن کو اب اعلیٰ ترین انتظامی عہدے کے لیے متبادل امیدواروں سے دوبارہ بات چیت شروع کرنا ہوگی۔
- یورپ کے لیے پروازوں کی بحالی اب حفاظتی اور ریگولیٹری آڈیٹس کے حل سے مشروط ہے۔
پاکستانی ایوی ایشن میں آئندہ کیا ہوگا
آنے والے ہفتوں میں ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے متبادل قیادت کے ناموں کے اعلان پر گہری نظر رکھیں۔ نجکاری کمیشن کا آئندہ بولی کے عمل سے متعلق رویہ بھی اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا اس دھچکے سے سرمایہ کار بددل ہوئے ہیں۔ آپ کو قومی ایئرلائن کو درپیش انتظامی اور مالیاتی چیلنجز پر پارلیمانی کمیٹیوں کی آئندہ رپورٹس کا انتظار کرنا چاہیے۔
