پاکستان ایران تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت
پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (PIAF) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) میں ہونے والی پیش رفت کو عملی اقدامات میں بدل کر پاکستان ایران تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم کو بڑھایا جائے۔ پی آئی ایف کے چیئرمین اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی امکانات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے فوری پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔
اگرچہ دونوں ممالک تجارتی معاہدوں کے فریم ورک پر کام کر رہے ہیں، لیکن تاجر برادری کا ماننا ہے کہ بینکاری کی رکاوٹیں اور جغرافیائی سیاسی صورتحال اب بھی تجارت کی راہ میں بڑی دیوار بنی ہوئی ہے۔
10 ارب ڈالر کا ہدف اور زمینی حقائق
کئی سالوں سے دونوں ممالک 10 ارب ڈالر کے سالانہ تجارتی ہدف کی بات کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پابندیوں اور بینکاری نظام کی عدم دستیابی کے باعث یہ ہدف تاحال ایک خواب کی مانند ہے۔ بارٹر ٹریڈ (اشیاء کے بدلے اشیاء کا تبادلہ) ایک عارضی حل تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ باقاعدہ بینکاری چینلز کا متبادل نہیں بن سکتا۔ ادائیگیوں کے محفوظ نظام کے بغیر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے ایران کے ساتھ تجارت کو وسعت دینا انتہائی مشکل ہے۔
تاجروں کے لیے اہم نکات
اگر آپ ایران کے ساتھ تجارت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو درج ذیل امور پر نظر رکھیں:
- بینکاری چینلز: اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایرانی حکام کے درمیان ادائیگیوں کے نئے اور محفوظ نظام کے اعلانات کا انتظار کریں۔
- ریگولیٹری تبدیلیاں: وزارت تجارت کی جانب سے ایف ٹی اے کے تحت ڈیوٹی میں چھوٹ کی تفصیلات پر نظر رکھیں، جس سے زرعی مصنوعات کی برآمد میں آسانی ہو سکتی ہے۔
- جغرافیائی سیاسی اثرات: عالمی پابندیوں میں نرمی یا سختی براہ راست سرحد پار تجارت کو متاثر کرے گی۔
آگے کیا ہوگا؟
پی آئی ایف نے واضح کیا ہے کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالتے رہیں گے تاکہ تاجروں کے لیے سہولت مراکز قائم کیے جا سکیں۔ جب تک بینکاری کے مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہوتے، تاجروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صرف حکومتی سطح پر منظور شدہ بارٹر ٹریڈ کے طریقوں کا استعمال کریں اور کسی بھی لین دین سے قبل بین الاقوامی مالیاتی ضوابط کا بغور جائزہ لیں۔
