اسلام آباد میں پالیسی ساز ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل فنانس کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے محض عارضی ڈیجیٹلائزیشن کافی نہیں بلکہ بنیادی نوعیت کے ادارہ جاتی مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) نے منگل کے روز زور دیا ہے کہ ملک کا ابھرتا ہوا ٹیکنالوجی سیکٹر اس وقت تک پائیدار ترقی نہیں کرسکتا جب تک ریگولیٹرز شفافیت، صارف کے حقوق کے تحفظ اور سخت احتساب کو یقینی نہیں بناتے ہیں۔
ایک عام پاکستانی صارف جو روزمرہ کی زندگی میں موبائل والٹس، آن لائن بینکنگ ایپس یا ڈیجیٹل کریڈٹ سسٹمز کا استعمال کرتا ہے، اسے اکثر تکنیکی رکاوٹوں اور شکایات کے ازالے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پی آئی ڈی ای کی تازہ ترین سفارشات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل مالیات کی ترقی کا انحصار صرف اسمارٹ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال پر نہیں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا صارفین اس ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر مکمل اعتماد کرتے ہیں جو ان کی محنت کی کمائی اور ذاتی ڈیٹا کو سنبھال رہا ہے۔
فن ٹیک کی راہ میں اعتماد کا فقدان
گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان کا فن ٹیک سیکٹر تیزی سے پھیلا ہے، جس کی بنیادی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زیر اثر کام کرنے والی ڈیجیٹل سروسز اور نوجوان آبادی کا رجحان ہے۔ اس کے باوجود، ٹرانزیکشنز کے فیل ہونے، پوشیدہ چارجز اور شکایات کے حل کے طویل طریق کار نے بہت سے صارفین کو مایوس کیا ہے۔
جب کسی ڈیجیٹل والٹ میں کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہوتی ہے یا غیر مجاز کٹوتی ہوتی ہے، تو صارفین کو اکثر کال سینٹرز کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ پی آئی ڈی ای کا کہنا ہے کہ مضبوط ادارہ جاتی نگرانی کے بغیر یہ مسائل صارفین کا اعتماد متزلزل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ دوبارہ نقد رقم کی طرف لوٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور مالیاتی شمولیت کے قومی اہداف متاثر ہوتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے استعمال کے تقاضے
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ٹیکسیشن، کریڈٹ اسسمنٹ اور سرکاری خدمات میں خودکار سسٹمز اور الگورتھم کا استعمال سخت نگرانی کا متقاضی ہے۔ اگر بغیر کسی شفاف آڈٹ کے خودکار فیصلے نافذ کیے گئے تو پسماندہ طبقات کے لیے قرضوں یا سرکاری امداد تک رسائی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ پاکستان میں ڈیجیٹل والٹس، موبائل بینکنگ یا آن لائن پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں، تو آپ کو اپنے مالیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:
- اپنی تمام مالیاتی ایپلیکیشنز پر ٹو فیکٹر اتھینیکیشن (2FA) لازمی فعال کریں۔
- اپنے اکاؤنٹ کی ہسٹری کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور کسی بھی مشکوک ٹرانزیکشن کی اطلاع فوراً اپنے بینک یا اسٹیٹ بینک کے ہیلپ ڈیسک کو دیں۔
- ٹرانزیکشن فیل ہونے یا ایرر آنے کی صورت میں اسکرین شاٹس محفوظ رکھیں تاکہ باضابطہ شکایت درج کرواتے وقت ثبوت کے طور پر کام آئیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
اس بات پر نظر رکھیے کہ اسٹیٹ بینک اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SECP) ان پالیسی سفارشات پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ آئندہ دنوں میں ڈیٹا پروٹیکشن کے قوانین اور ڈیجیٹل بینکنگ کے ضوابط میں ہونے والی تبدیلیاں اس بات کا فیصلہ کریں گی کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت محفوظ سمت میں آگے بڑھتی ہے یا نہیں۔
