وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ حکومت کی اولین ترجیح سیلاب سے بے گھر ہونے والے شہریوں کو فوری ریلیف اور طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد
ہفتے کے روز ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو واضح کیا کہ وہ صوبائی اداروں اور پی ڈی ایم ایز کے ساتھ موثر رابطہ کاری کو یقینی بنائیں۔ پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا باہمی تعاون ناگزیر ہے تاکہ امدادی سامان، راشن اور خیمے متاثرین تک بروقت پہنچ سکیں۔
پی ڈی ایم ایز کے ساتھ رابطہ
ریسکیو آپریشن کی کامیابی کا دارومدار بروقت معلومات کے تبادلے پر ہے۔ این ڈی ایم اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے ان علاقوں کی نشاندہی کرے جہاں مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے، ہنگامی ٹیموں کو ان علاقوں میں تعینات کیا جائے گا جہاں صورتحال زیادہ سنگین ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ حکومتی اعلانات پر نظر رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ سیلاب سے متاثرہ علاقے میں رہائش پذیر ہیں تو اپنے ضروری دستاویزات اور ہنگامی سامان کو محفوظ مقام پر رکھیں۔ این ڈی ایم اے کی آفیشل ویب سائٹ (ndma.gov.pk) پر تازہ ترین انتباہات اور ہدایات کو باقاعدگی سے چیک کریں۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے دی گئی انخلا کی ہدایات کو نظر انداز نہ کریں۔ اگر آپ کا گھر متاثر ہوا ہے تو اپنے قریبی پی ڈی ایم اے آفس میں اندراج کروائیں تاکہ آپ کو حکومتی امدادی فہرست میں شامل کیا جا سکے۔
آئندہ کے اقدامات
آنے والے دنوں میں حکومت سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا باقاعدہ تخمینہ لگانے کے لیے رپورٹ جاری کرے گی۔ متاثرہ اضلاع میں سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لیے فنڈز کی فراہمی اور بحالی کے پیکج پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
