جامو و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں اون سے کپڑا اور شالیں بنانے والے مقامی کاریگروں اور بنکروں نے حکومت کی جانب سے اس صنعت کی سرپرستی کے اعلانات کے بعد اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اس شعبے سے وابستہ افراد طویل عرصے سے سستے مشین ساز کپڑے اور خام مال کی بلند قیمتوں کے باعث مشکلات کا شکار تھے۔
- مقام: کٹھوعہ اور جموں کے علاقے، مقبوضہ جموں و کشمیر
- اہم واقعہ: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے تذکرے کے بعد 8 اگست کو سرکاری سطح پر امداد کی یقین دہانی
- سرکاری اعلان: نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کی جانب سے دستکاری اور ببنکاری کے تحفظ کا وعدہ
- مستفید افراد: پہاڑی اضلاع کے دیہی بنکر، اون کے کاریگر اور گھروں میں کام کرنے والے مزدور
جموں و کشمیر کے بنکروں کے لیے نئے وعدے
8 اگست کو جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے اعادہ کیا کہ حکومت ہاتھ سے کپڑا بننے کی قدیم روایت کو بچانے اور بنکروں کی مالی حالت بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے گی۔ ان کا یہ بیان جموں میں ایک تقریب کے دوران سامنے آیا، جس سے قبل بھارتی وزیراعظم نے بھی پہاڑی علاقوں کی روایتی اونٹنی اور صوفیانہ دستکاری کو اجاگر کیا تھا۔
کٹھوعہ جیسے دور دراز پہاڑی اضلاع میں کام کرنے والے بنکروں کے لیے اس صنعت کا مرکزی سطح پر تذکرہ ایک نئی امید لایا ہے۔ ان علاقوں میں گھریلو سطح پر اون بننے کا کام طاقتور پاور لومز اور مہنگے خام مال کی وجہ سے شدید بحران کا شکار تھا۔ مقامی کاریگروں کا کہنا ہے کہ سرکاری سرپرستی سے جمد شدہ قرضے بحال ہو سکتے ہیں اور اصلی دستی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ممکن ہے۔
حکومتی یقین دہانیوں میں روایتی کھڈیوں کو جدید بنانا، کاریگروں کو براہ راست منڈی تک رسائی دینا اور درمیان کے دلالوں کا خاتمہ شامل ہے۔ ایکسپو اور سستی اون کی فراہمی کے پروگرام بھی ان منصوبوں کا حصہ بتائے جا رہے ہیں۔
کٹھوعہ کے پہاڑی علاقوں کی زمینی صورتحال
اعلاانات کے باوجود دور افتادہ علاقوں کے کاریگروں کو روزمرہ کی سطح پر سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ کٹھوعہ کے بالائی علاقوں میں اون کی کٹائی اور کٹائی کا کام آج بھی پرانے ہاتھوں کے طریقوں سے ہوتا ہے جس میں وقت اور محنت زیادہ لگتی ہے۔
- خام مال کی قیمتیں: خام اون کی مہنگائی کے باعث بنکروں کو مقامی تاجروں سے سود پر رقم لینا پڑتی ہے۔
- ٹرانسپورٹ کی دشواری: سردیوں میں راستے بند ہونے سے کاریگر مہینوں تک جموں کی بڑی منڈیوں سے کٹے رہتے ہیں۔
- کم منافع: شہروں کے شورومز میں جو مصنوعات مہنگے داموں بکتی ہیں، ان کا بہت چھوٹا حصہ اصل بنکر تک پہنچتا ہے۔
مقامی یونینز کا کہنا ہے کہ صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ بنکروں کو جدید آلات اور مصنوعات کی سرکاری سطح پر خرید کی ضمانت دینی ہوگی تاکہ نوجوان اس پیشہ کو چھوڑ کر شہروں کا رخ نہ کریں۔
خطے میں اون کی صنعت کی معاشی اہمیت
جموں و کشمیر کے دیہی علاقوں میں اون کی ببنکاری سردیوں کے موسم میں روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ جب شدید برف باری کے باعث زراعت کا کام بند ہو جاتا ہے تو شالیں، لوئیاں اور اون کے کپڑے بنا کر دیہی خاندان اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر حکومت اس صنعت کو سنبھالا دینا چاہتی ہے تو ملکی منڈیوں میں نلی اور جعلی مشینوں کی بنی مصنوعات کی فروخت روکنا ہوگی۔ جب تک اصلی دستی اون کو تصدیقی ٹیگ نہیں دیے جاتے، عام بنکر کا مقابلے میں ٹکنا مشکل ہے۔
اگر حکومت کٹھوعہ اور جموں میں باقاعدہ سرکاری خرید کے مراکز قائم کر دے تو بنکروں کو اپنی تیار کردہ اشیاء فوری فروخت کرنے کا موقع مل سکے گا اور انہیں مہینوں رقم کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
کاریگروں کے لیے آگے کا راستہ
آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ سرکاری اعلانات سے دیہی بنکروں کو واقعی کوئی فائدہ پہنچا یا نہیں۔ اس سلسلے میں درج ذیل نکات اہم ہوں گے:
- بجٹ کی فراہمی: کیا دیہی اضلاع میں بنکر کلسٹرز کے لیے واقعی فنڈز جاری کیے جاتے ہیں؟
- نمائشیں: کیا بنکروں کو قومی سطح کی نمائشوں میں بغیر کسی فیس کے اسٹالز دیے جاتے ہیں؟
- جدید آلات: پہاڑی علاقوں کے لیے موزوں جدید اور شمسی توانائی سے چلنے والی کھڈیاں کب تک فراہم کی جاتی ہیں۔
کٹھوعہ اور دیگر پہاڑی علاقوں کے کاریگروں کے لیے اس وقت کی توجہ ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس کا پائیدار نتیجہ صرف اسی صورت نکل سکتا ہے جب انتظامیہ کاغذی وعدوں کو عملی امداد اور منڈی کی سہولت میں بدلے۔
