وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی پہلی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے باضابطہ اجرا کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کی نوجوان آبادی کو قومی معیشت کا حصہ بنانا اور انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ ملک کی ترقی کا سفر نوجوانوں کو یکساں تعلیمی اور روزگار کے مواقع فراہم کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔

یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کی اہمیت

حکومتی اعلان کے مطابق، یہ پالیسی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ملک کے ہر کونے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور جدید علوم تک رسائی حاصل ہو۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوجوان پاکستان کا اصل اثاثہ ہیں اور انہیں محض ڈگری ہولڈر بنانے کے بجائے ہنر مند بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی تعلیمی اداروں اور انڈسٹری کے درمیان موجود خلیج کو ختم کرنے کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل فراہم کرے گی۔

  • جدید علوم اور ٹیکنیکل تعلیم پر خصوصی توجہ۔
  • صوبوں کے درمیان تعلیمی اور روزگار کے مواقع کی برابری۔
  • نصاب میں فنی مہارتوں کو شامل کرنا۔
  • ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ذریعے طلباء کو مارکیٹ کی ضروریات سے آگاہ کرنا۔

مہارتوں کا فقدان کیسے ختم ہوگا؟

موجودہ دور میں صرف روایتی تعلیم کافی نہیں رہی، اسی لیے حکومت فنی مہارتوں (Vocational Training) پر زور دے رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کی مہارتیں سکھانا حکومت کی ترجیح ہے۔ اس پالیسی کے تحت ان پروگراموں کا آغاز کیا جائے گا جو نوجوانوں کو عملی میدان میں مقابلہ کرنے کے قابل بنائیں گے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ طالب علم یا گریجویٹ ہیں، تو آپ کو وزارت منصوبہ بندی اور دیگر متعلقہ سرکاری ویب سائٹس پر نظر رکھنی چاہیے۔ حکومت کی جانب سے جلد ہی مختلف سکلز ڈیولپمنٹ پروگرامز اور انٹرنشپ کے مواقع کا اعلان متوقع ہے، جس کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھیں۔ سرکاری پورٹلز پر اپنی پروفائلز کو اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ جیسے ہی ان پروگراموں کا آغاز ہو، آپ بروقت اپلائی کر سکیں۔

آگے کیا ہوگا؟

اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس کے عملی نفاذ اور بجٹ میں مختص کردہ فنڈز پر ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ حکومت کس طرح دیہی اور شہری علاقوں کے نوجوانوں کو ان مواقع تک رسائی دیتی ہے۔ عوام اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ عملی طور پر کتنی نوکریاں اور تربیتی پروگرام شروع کیے جاتے ہیں۔