وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو خضدار کے شور پرود پہاڑی سلسلے میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن پر خراج تحسین پیش کیا جس میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور شہری مراکز پر حملوں کی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا گیا۔
یہ آپریشن پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور بلوچستان اور خفیہ ایجنسیوں کی مشترکہ ٹیم نے انجام دیا۔ اطلاعات کے مطابق، اس آپریشن کا آغاز اس وقت ہوا جب خفیہ رپورٹس سے پتہ چلا کہ دور دراز علاقے میں مسلح دہشت گرد موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق آپریشن کا آغاز اگست اور ستمبر 2024 کے دوران نگرانی اور خفیہ معلومات کی تصدیق کے بعد ہوا۔
- آپریشن کا مقام: شور پرود پہاڑی سلسلہ، خضدار، بلوچستان
- شمولیت والی سیکیورٹی فورسز: پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور بلوچستان، خفیہ ایجنسیاں
- نتیجہ: دہشت گرد ٹھکانے تباہ، منصوبہ بند حملے ناکام
- جانی نقصان: disclosed نہیں کیا گیا؛ آپریشن ہمسایہ علاقوں میں جاری
- آپریشن کی تاریخ: 12 ستمبر 2024 (فوجی ذرائع کے مطابق تصدیق شدہ)
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور ملک کے تحفظ کے عزم کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہمارے بہادر جوانوں کی جرات اور درستی نے بے شمار جانوں کو بچایا ہے اور ایک بڑے المیہ کو روکا ہے۔ قوم اپنے ان جاں نثاروں کے ساتھ کھڑی ہے جو انتہائی مشکل حالات میں مسلسل کام کرتے ہیں۔"
وزیراعظم نے خفیہ ایجنسیوں کے کردار کو بھی سراہا جن کی کارروائیوں کی بنیاد پر یہ آپریشن ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا، "یہ کامیابی ہمارے فوجی اور خفیہ اداروں کے آپس کے ہم آہنگی کی ایک مثال ہے۔"
سیکیورٹی ماہرین نے اس آپریشن کو بلوچستان میں دہشت گرد گروپوں کے لیے ایک اہم دھچکا قرار دیا ہے۔ شور پرود کا علاقہ اپنی دشوار گزار زمین کی وجہ سے دہشت گردوں کے لیے پناہ گاہ رہا ہے جو بنیادی ڈھانچے اور سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
آپریشن کی تفصیلات
فوجی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن مہینوں کی نگرانی اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر شروع کیا گیا۔ ڈرون اور زمینی نگرانی سے اس علاقے میں غیر معمولی حرکت کا پتہ چلا جس کے بعد مشترکہ چھاپے کا فیصلہ کیا گیا۔
- پہلا مرحلہ: نگرانی اور خفیہ معلومات کی تصدیق (اگست–ستمبر 2024)
- عملی مرحلہ: ہیلی کاپٹر کے ذریعے حملہ اور زمینی کارروائی (12 ستمبر 2024)
- بعد از آپریشن: سیکیورٹی فورسز نے اہم مقامات پر قبضہ کیا؛ دہشت گرد ہمسایہ وادیوں میں فرار ہو گئے
فوج نے جانی نقصانات کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں کیونکہ آپریشن جاری ہے۔ تاہم، خضدار کے مقامی ذرائع نے آپریشن کے دوران بھاری فائرنگ کی آوازیں اور فوجی ہیلی کاپٹروں کو علاقے میں دیکھنے کی اطلاعات دی ہیں۔
بلوچستان کے لیے اس کا مطلب
بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ غیر مستحکم صوبہ ہے جہاں دور دراز علاقوں میں دہشت گرد گروپ جیسے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور اسلامی ریاست-خراسان صوبہ (IS-KP) سرگرم ہیں۔ اس آپریشن سے ان کے رسد اور بھرتی کے منصوبوں میں خلل پڑنے کی توقع ہے۔
- ہدف بننے والے بنیادی ڈھانچے: دہشت گرد تربیت کیمپ اور ہتھیاروں کے ذخائر
- مقامی آبادی پر اثرات: شہری نقصانات سے بچا گیا؛ فی الحال کسی بے گھر ہونے کی رپورٹ نہیں
- حکومت کا ردعمل: وفاقی اور صوبائی حکام نے سیکیورٹی اقدامات میں اضافے کا وعدہ کیا ہے
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے آپریشن کی تعریف کی اور خضدار کے رہائشیوں کو مزید تحفظ کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا، "ہمارا اولین مقصد عوام کی سلامتی ہے۔ ہم دہشت گردی کے اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی مدد جاری رکھیں گے۔"
