وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے پاکستان میں سیلاب سے بچاؤ اور امداد کے عمل کو تیز کرنے کے لیے تمام قومی وسائل بروئے کار لائیں۔

وزیراعظم نے یہ ہدایات ہفتہ، 17 اگست 2024 کو ملک بھر میں ہنگامی صورتحال کے اعلیٰ سطح کے جائزے کے دوران جاری کیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی حکومت اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک ہر متاثرہ خاندان کو محفوظ مقام پر منتقل نہیں کر دیا جاتا اور انہیں ضروری اشیاء فراہم نہیں کر دی جاتیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے شہریوں تک امداد پہنچانے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

حکومتی ہدایات کے اہم نکات

- تاریخِ ہدایت: ہفتہ، 17 اگست 2024
- مرکزی ادارہ: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (PDMAs) کے تعاون سے
- ترجیحی علاقے: بلوچستان، جنوبی پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے نشیبی اضلاع
- امدادی سامان: ہنگامی راشن، پینے کا صاف پانی، طبی کیمپ اور عارضی پناہ گاہیں
- ایمرجنسی نمبر: فوری مدد کے لیے این ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن (1110)

وزیراعظم شہباز شریف کی سیلاب زدگان کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت

اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ جب انسانی جانیں خطرے میں ہوں تو کسی بھی قسم کی دفتری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے این ڈی ایم اے کے چیئرمین کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پر امدادی سامان کی تقسیم کی نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ امداد دور دراز علاقوں تک پہنچے۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی مدد کے لیے ہنگامی فنڈز جاری کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم نے ان علاقوں میں ہیلی کاپٹرز اور بھاری مشینری کے استعمال کی بھی ہدایت کی جہاں لینڈ سلائیڈنگ یا پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے زمینی راستے منقطع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ خواتین، بچوں اور بزرگوں پر خصوصی توجہ دی جائے جو ایسے قدرتی سانحات میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر میڈیکل کیمپ قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

صوبوں میں مربوط امدادی کارروائیاں

اس سال مون سون کے سیزن میں غیر معمولی بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے دریاؤں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ بلوچستان میں ساحلی اور شمالی اضلاع کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے سیلاب کا سامنا ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے این ڈی ایم اے، پاک فوج، مقامی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کی ٹیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ سرکاری اسکولوں اور عمارتوں میں امدادی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ بند سڑکوں کو فوری طور پر کھولا جا سکے اور امدادی قافلوں کی آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں کے مکین کیا کریں؟

اگر آپ یا آپ کا خاندان ایسے علاقے میں مقیم ہے جہاں سیلاب کا خطرہ ہے، تو فوری طور پر درج ذیل حفاظتی تدابیر اختیار کریں:

  • موسمیاتی الرٹ پر نظر رکھیں: محکمہ موسمیات (PMD) اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کو باقاعدگی سے سنیں۔
  • ایمرجنسی کٹ تیار رکھیں: اپنے ضروری دستاویزات، خشک راشن، پینے کا صاف پانی، فرسٹ ایڈ کا سامان اور ضروری ادویات ایک واٹر پروف بیگ میں محفوظ کر لیں۔
  • فوری انخلا: پانی کے گھر تک پہنچنے کا انتظار نہ کریں۔ اگر انتظامیہ علاقہ خالی کرنے کا کہے تو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
  • پانی والے راستوں سے پرہیز کریں: گاڑی چلانے یا پیدل چلنے کے لیے سیلابی پانی کا رخ نہ کریں۔ پانی کا تھوڑا سا بہاؤ بھی گاڑی کو بہا لے جا سکتا ہے۔
  • ایمرجنسی رپورٹ کریں: کسی بھی ہنگامی صورتحال میں این ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1110 یا مقامی پی ڈی ایم اے سے رابطہ کریں۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

آنے والے دن انتہائی اہم ہیں کیونکہ محکمہ موسمیات نے ملک کے بالائی اور وسطی حصوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ تربیلا اور منگلا جیسے بڑے ڈیموں میں پانی کی سطح پر نظر رکھیں کیونکہ یہاں سے پانی کا اخراج دریائے سندھ کے زیریں علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

مزید برآں، حکومت کی جانب سے ان کسانوں کے لیے ایک جامع پیکیج کا اعلان متوقع ہے جن کی فصلیں اور مویشی سیلاب کی نظر ہو گئے ہیں۔ متاثرہ گھروں کے لیے مالی معاوضے کے اعلانات پر بھی نظر رکھیں جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) یا براہ راست بینکنگ چینلز کے ذریعے تقسیم کیے جائیں گے۔ ہم آپ کو صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ تفصیلات سے آگاہ کرتے رہیں گے۔