وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پرامن اور منصفانہ حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون رہے گا اور ملک اس معاملے پر اپنی سفارتی وابستگی پر قائم ہے۔ اسلام آباد میں اپنے ایک بیان کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کشمیری عوام کے حق خودارضیت کے حصول تک ان کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔ موجودہ ملکی حالات اور سیاسی منظر نامے میں اس پالیسی بیان کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ حکومت نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنے روایتی موقف کو دہرایا ہے۔
سفارتی مؤقف اور بین الاقوامی فورمز
دفتر خارجہ کے حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس دیرینہ مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا۔ اسلام آباد کا یہ مؤقف رہا ہے کہ نئی دہلی کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور تجارتی امور کی بحالی کا انحصار اسی تنازع پر پیش رفت سے جڑا ہوا ہے۔ عالمی پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کے حقوق کی بات کرنا پاکستانی سفارت کاری کا ایک اہم حصہ رہا ہے اور اس پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی کے فی الحال کوئی اشارے نہیں ملے۔
ملکی سیاسی اتفاق رائے
کشمیر کے مسئلے پر ملک کی سیاسی جماعتوں، عسکری قیادت اور سول سوسائٹی کے درمیان ایک طرح کا قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس نکتے پر ایک ہی صفحے پر نظر آتے ہیں کہ قومی سلامتی اور اس خطے کے بنیادی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ عام شہریوں کے نقطہ نظر سے اس کا مطلب یہ ہے کہ خارجہ امور اور دفاعی ترجیحات میں یہ مؤقف طویل عرصے تک اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔
آگے کیا دیکھنا چاہیے
آئندہ دنوں میں دفتر خارجہ کی پریس بریگز اور اقوام متحدہ کے آئندہ اجلاسوں کے دوران آنے والے بیانات پر نظر رکھیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کا جائزہ لیں تاکہ زمینی حقائق کا اندازہ لگایا جا سکے کہ خطے کی صورتحال کس طرف جا رہی ہے۔
