وزیراعظم شہباز شریف نے منگل، 15 اکتوبر 2024 کو بشکیک میں pm shehbaz sco summit کے موقع پر مختلف ممالک کے سربراہان کے ساتھ غیر رسمی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا، جس میں علاقائی تجارت، سفارتی تعلقات اور اقتصادی تعاون پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ان تیز رفتار اور اعلیٰ سطحی رابطوں نے پاکستان کو اہم علاقائی ممالک کے سامنے علاقائی روابط اور اقتصادی شراکت داری کا مقدمہ براہ راست پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔
ان مختصر ملاقاتوں کے دوران وزیراعظم نے باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور تجارتی راہداریوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ان مذاکرات کا مقصد پاکستان کو درپیش حالیہ معاشی چیلنجز کا حل تلاش کرنا اور یہ دیکھنا تھا کہ علاقائی شراکت داریاں ملکی مارکیٹ کو مستحکم کرنے میں کس طرح مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
ایس سی او سائیڈ لائنز ملاقاتوں کے اہم نکات
- مقام: بشکیک، کرغزستان
- تاریخ: منگل، 15 اکتوبر 2024
- ملاقاتیں: وسطی ایشیائی ریاستوں، چین اور روس کے سربراہانِ مملکت و حکومت
- بنیادی توجہ کے شعبے: علاقائی تجارتی راستے، ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے، توانائی کا تعاون اور علاقائی استحکام
ایس سی او سمٹ کے موقع پر سفارتی کوششیں
بشکیک میں ہونے والے pm shehbaz sco summit کے دوران غیر رسمی رابطوں نے پاکستان کو اپنی اقتصادی سفارت کاری کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ رسمی اور پہلے سے تحریر شدہ تقاریر پر انحصار کرنے کے بجائے، وزیراعظم نے ان سائڈ لائن ملاقاتوں کا استعمال فوری نوعیت کے دوطرفہ مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا۔ اسلام آباد کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے غیر رسمی ماحول میں اکثر رسمی اجلاسوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے سفارتی پیش رفت ہوتی ہے۔
پاکستان اس وقت خود کو وسطی ایشیا کے زمین بند (landlocked) ممالک کے لیے ایک مرکزی ٹرانزٹ ہب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وسطی ایشیائی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت میں، وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ وہ خطے کے لیے تیز تر اور سستی تجارتی راہداریوں کی سہولت کے لیے گوادر اور کراچی کی پاکستانی بندرگاہوں کا استعمال کریں۔ رہنماؤں نے کاسا-1000 (CASA-1000) بجلی کی ترسیل کے منصوبے کی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا، جو پاکستان کے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
یہ ملاقاتیں پاکستان کے لیے کیوں اہم ہیں؟
عام پاکستانی کے لیے غیر ملکی دورے اور کانفرنسیں روزمرہ کی زندگی سے دور کی باتیں لگ سکتی ہیں، لیکن یہ سفارتی کوششیں براہ راست ملکی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت معاشی استحکام کے ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے ایس سی او کے رکن ممالک سے تجارتی وعدے اور دوطرفہ سرمایہ کاری حاصل کرنا ناگزیر ہے۔
چین اور روس جیسے علاقائی ممالک اور توانائی سے مالا مال وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر کے، پاکستان سستی توانائی کی درآمدات اور اپنی برآمدی منڈیوں کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ تجارتی حجم میں اضافہ مقامی برآمد کنندگان بالخصوص زراعت، ٹیکسٹائل اور ادویات سازی کے شعبوں کے لیے کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
آنے والے ہفتوں میں، پاکستانی کاروباری برادری کو ان اعلیٰ سطحی غیر رسمی مذاکرات کے بعد ہونے والے وزارتی دوروں پر نظر رکھنی چاہیے۔ توقع ہے کہ تجارت اور توانائی کے حوالے سے قائم مشترکہ ورکنگ گروپس جلد ہی بشکیک میں طے پانے والے امور کو حتمی شکل دینے کے لیے ملاقاتیں کریں گے۔
مزید برآں، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے اپڈیٹس پر نظر رکھیں۔ سمٹ میں پاکستانی اور چینی حکام کے درمیان ہونے والے غیر رسمی تبادلوں سے پاکستان بھر میں اہم بنیادی ڈھانچے اور صنعتی زونز کے منصوبوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ پاکستانی برآمد کنندہ یا کاروباری شخصیت ہیں، تو یہ وسطی ایشیائی منڈیوں میں مواقع تلاش کرنے کا بہترین وقت ہے۔ حکومت ازبکستان، تاجکستان اور کرغزستان جیسے ممالک کے ساتھ کسٹم کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدوں کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ان بڑھتے ہوئے علاقائی روابط سے فائدہ اٹھانے کے لیے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) اور مقامی چیمبرز آف کامرس کے زیر اہتمام جانے والے تجارتی وفود پر نظر رکھیں۔
