وفاقی دارالحکومت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر، وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد پولیس کو 50 نئی الیکٹرک گاڑیاں فراہم کر دی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد پولیس فورس کو ماحول دوست اور کم خرچ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا ہے۔ ان الیکٹرک گاڑیوں کی شمولیت سے نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی بلکہ پولیس کے ایندھن کے اخراجات میں بھی بڑی بچت ہوگی۔
گاڑیوں کی حوالگی کی یہ تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جہاں وزیراعظم نے وفاقی وزراء اور اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام کو گاڑیوں کی چابیاں پیش کیں۔ اس گرین اقدام کے ساتھ ساتھ، وفاقی حکومت نے دارالحکومت کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک جدید ترین کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بھی قائم کیا ہے۔
منصوبے کے اہم نکات
* جدید بیڑا: اسلام آباد پولیس کے پٹرولنگ بیڑے میں 50 جدید الیکٹرک گاڑیاں شامل کر دی گئی ہیں۔
* بڑی مالی بچت: الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے ایندھن کی مد میں ماہانہ تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ روپے کی بچت متوقع ہے۔
* جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول: وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی آپریشنز کو مربوط بنانے کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا افتتاح کر دیا ہے۔
* براہ راست نگرانی: نیا سسٹم آئی جی اسلام آباد کو کسی بھی ہنگامی صورتحال یا سیکیورٹی چیلنج کے دوران براہ راست مانیٹرنگ اور کنٹرول کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے معاشی اور ماحولیاتی فوائد
اسلام آباد پولیس کو الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پاکستان کو ایندھن کی درآمدی بل اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے۔ پٹرولنگ گاڑیوں کے ایک حصے کو بجلی پر منتقل کرنے سے وفاقی دارالحکومت کی پولیس کو ہر ماہ تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔ یہ رقم پولیس فورس کی تربیت، تفتیشی نظام کی بہتری اور کمیونٹی پولیسنگ جیسے دیگر اہم کاموں پر خرچ کی جا سکے گی۔
یہ اقدام پاکستان کی قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی (NEVP) کے مقاصد کو حاصل کرنے کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔ اس پالیسی کا ہدف 2030 تک ملک میں فروخت ہونے والی تمام مسافر گاڑیوں کا 30 فیصد الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کرنا ہے۔ سرکاری شعبے کے بیڑے میں اس ٹیکنالوجی کو اپنا کر، حکومت نجی شہریوں اور دیگر سرکاری محکموں کے لیے ایک مثال قائم کر رہی ہے۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہونے سے قومی خزانے پر دباؤ بھی براہ راست کم ہوگا، جو اس وقت بھاری گردشی قرضوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کے مسائل سے نبردآزما ہے۔
مالی فائدے کے علاوہ، یہ گاڑیاں اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہروں میں فضائی آلودگی کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔ الیکٹرک گاڑیاں کسی قسم کا دھواں خارج نہیں کرتیں جس سے شہر کی ہریالی برقرار رکھنے اور ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ مزید برآں، ان گاڑیوں کی خاموش کارکردگی رات کے وقت رہائشی علاقوں میں گشت کے دوران صوتی آلودگی (شور) کو بھی کم کرے گی۔
جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی خصوصیات
الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ ساتھ، وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد پولیس کے نئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا بھی افتتاح کیا۔ یہ سینٹر دارالحکومت بھر میں سیکیورٹی آپریشنز کے مرکز کے طور پر کام کرے گا۔
جدید ترین سیکیورٹی ٹیکنالوجی سے لیس یہ سینٹر سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر بھر میں نصب سینکڑوں آئی پی کیمروں کی لائیو فیڈز کو یکجا کرتا ہے۔ اس سسٹم کی مدد سے آئی جی اسلام آباد براہ راست سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کر سکیں گے اور کسی بھی ناگہانی صورتحال یا احتجاج کی صورت میں فوری فیصلے کر سکیں گے۔ اب کمانڈرز وائرلیس رپورٹس کا انتظار کرنے کے بجائے براہ راست ویڈیو فیڈز دیکھ کر موقع پر فوری نفری روانہ کرنے اور حالات کو کنٹرول کرنے کے قابل ہوں گے۔
نیا قائم کردہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر صرف ویڈیو مانیٹرنگ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں آٹومیٹڈ نمبر پلیٹ ریکگنیشن (ANPR) اور چہروں کی شناخت (فیشل ریکگنیشن) جیسی جدید ترین سافٹ ویئر خصوصیات کو یکجا کیا گیا ہے۔ یہ ٹولز اسلام آباد پولیس کو چوری شدہ گاڑیوں کو ٹریک کرنے، مطلوبہ مجرموں کی شناخت کرنے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی خودکار نگرانی کرنے کے قابل بنائیں گے۔ ریئل ٹائم کیمرہ فیڈز کے ساتھ مصنوعی ذہانت (AI) کے انضمام کا مطلب یہ ہے کہ سسٹم خود بخود مشکوک سرگرمیوں یا غیر مجاز اجتماعات کی نشاندہی کر سکتا ہے اور قریبی پٹرولنگ یونٹ کو فوری الرٹ بھیج سکتا ہے۔
شہریوں کے لیے اس کے کیا فوائد ہیں؟
اسلام آباد کے عام شہریوں کے لیے ان اقدامات کا مطلب ایک زیادہ متحرک اور چوکس پولیس فورس ہے۔ ایندھن کے اخراجات میں واضح کمی کے بعد اب پولیس کی پٹرولنگ گاڑیاں بجٹ کی کمی کا شکار ہوئے بغیر سڑکوں پر زیادہ وقت گزار سکیں گی۔ شہری اب رہائشی سیکٹرز اور تجارتی مراکز میں پولیس کی زیادہ موجودگی کی توقع کر سکتے ہیں۔
فوری رسپانس ٹائم کے علاوہ، ان گاڑیوں کی تعیناتی سے پولیسنگ کے نظام میں شفافیت بھی آئے گی۔ ان جدید الیکٹرک گاڑیوں میں ڈیش بورڈ کیمرے نصب کیے جانے کی توقع ہے جو براہ راست مرکزی کنٹرول روم سے منسلک ہوں گے۔ اس سے یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ پولیس افسران اور شہریوں کے درمیان ہونے والی بات چیت ریکارڈ ہو، جس سے احتساب کو فروغ ملے گا اور ہراساں کرنے یا رشوت ستانی کی شکایات میں کمی آئے گی۔ عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے یہ ٹیکنالوجی کا استعمال ایک خوش آئند قدم ہے۔
اس کے علاوہ، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو پٹرولنگ بیڑے کے ساتھ منسلک کرنے سے ہنگامی صورتحال میں پولیس کا ریسپانس ٹائم بھی کم ہو جائے گا۔ جب کوئی شہری 15 پر کال کرے گا، تو کنٹرول سینٹر کے آپریٹرز جی پی ایس ٹریکنگ کے ذریعے قریب ترین الیکٹرک پٹرولنگ گاڑی کا پتہ لگا کر اسے فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر سکیں گے۔
آگے کیا ہوگا؟
اسلام آباد پولیس کی جانب سے گرین پولیسنگ کی شروعات کے بعد اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں بھی اس ماڈل کو اپنے ہاں نافذ کرتی ہیں یا نہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کے کامیاب استعمال کے لیے چارجنگ انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وفاقی دارالحکومت کے مختلف تھانوں میں گاڑیوں کو 24 گھنٹے فعال رکھنے کے لیے کتنی جلدی ہائی اسپیڈ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جاتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو جس پر نظر رکھنا ہوگی وہ مخصوص چارجنگ نیٹ ورک کی ترقی ہے۔ اگرچہ ابتدائی 50 گاڑیاں ایک بہترین شروعات ہیں، لیکن ان کی افادیت کا انحصار فاسٹ چارجرز کی دستیابی پر ہے۔ حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت کے بڑے تھانوں میں سولر پاور سے چلنے والے چارجنگ ڈاکس نصب کرنے کے لیے نجی توانائی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سے نہ صرف گاڑیاں قابل تجدید توانائی کا استعمال کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں گرین ہو جائیں گی بلکہ لوڈ شیڈنگ کے دوران بھی قومی پاور گرڈ سے آزاد رہیں گی۔ ان چیلنجز سے نمٹنا ہی اس منصوبے کی حتمی کامیابی کا تعین کرے گا۔
