وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ DISCOs privatisation کے عمل میں عالمی معیار کے سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت یقینی بنانے کے لیے ایک مؤثر اور جامع حکمت عملی تیار کریں۔ اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ خسارے میں چلنے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی حالت زار کو سدھارنا قومی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
حکومت نے ریاستی اداروں بالخصوص توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قومی خزانے پر بوجھ بننے والے اداروں سے جان چھوڑی جا سکے۔ بجلی چوری، لائن لاسز اور ناقص انتظامی امور کی وجہ سے سرکاری ڈسکو کمپنیاں ہر سال اربوں روپے کا مالی نقصان اٹھاتی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو مہنگی بجلی کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو شامل کرکے حکومت کا مقصد بجلی کے ترسیلی نظام کو جدید بنانا اور مینجمنٹ کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
پاور سیکٹر کی نجکاری سے متعلق اہم تفصیلات
توانائی کے شعبے میں جاری ان اصلاحات اور اقدامات کے حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
- اجلاس کی تاریخ: بدھ، 4 فروری 2026 (مقام: اسلام آباد)۔
- بنیادی مقصد: پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) کی نجکاری کے لیے بین الاقوامی اور مقامی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا۔
- بڑا مسئلہ: سرکیولر ڈیٹ اور نااہلی کی وجہ سے ہر سال اربوں روپے کی سبسڈی کا اجرا۔
- اگلا قدم: نجکاری کمیشن کے تحت بولی کے عمل کو شفاف اور تیز تر بنانا۔
بجلی کے بلوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟
پاکستان کے عام شہری پہلے ہی مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ سرکاری ڈسکو کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور ریکوری میں ناکامی ہے۔ جب تک ترسیلی نظام نجی شعبے کے حوالے نہیں کیا جاتا، صارفین کو فیول ایڈجسٹمنٹ اور کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں اضافی ادائیاں کرنا پڑتی ہیں۔ اگر حکومت شفاف طریقے سے ان اداروں کو چلانے کے قابل سرمایہ کاروں کو لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آنے والے وقتوں میں بجلی کے نرخوں میں کمی کی توقع کی جا سکتی ہے۔
تاہم، عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے ریگولیٹری یقین دہانی، سیاسی استحکام اور بقایاجات کی وصولی کی ضمانت چاہتی ہیں۔ ماضی میں بھی یونینز کی مخالفت اور انتظامی پیچیدگیوں کی وجہ سے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل میں رکاوٹیں آتی رہی ہیں، اس لیے اصل امتحان اس پالیسی پر عملی درآمد کا ہوگا۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آئندہ چند ہفتوں میں نجکاری کمیشن کی طرف سے پہلے مرحلے میں فروخت کی جانے والی بجلی کمپنیوں کے ٹینڈرز اور شرائط کا انتظار کریں۔ مزدور یونینز کا مؤقف اور حکومت کی طرف سے ان کے مطالبات کو سنبھالنے کا طریقہ بھی اس پورے عمل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر موجودہ انتظامیہ اس چیلنج سے کامیابی سے نبرد آزما ہوتی ہے تو ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا راستہ کھل سکتا ہے۔
