وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں 12 جون 2026 کو پاکستان کی پہلی قومی نوجوان روزگار پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کا ہدف ایک ملین نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت پانچ سو ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جس میں تربیت و روزگار کی سبسڈیز شامل ہیں۔
پالیسی کی اہم باتیں — اہم حقائق
- ایک ملین روزگار تین سالوں میں پیدا کیے جائیں گے جن میں پہلی سال میں پانچ لاکھ روزگار شامل ہیں۔
- پانچ سو ارب روپے کا بجٹ نوجوانوں کی تعلیمی واپسیوں، آجرین کو روزگار سبسڈی اور خود روزگار کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
- ترجیحی شعبے: آئی ٹی، تعمیرات، صحت، گرین انرجی اور زرعی صنعت۔
- اہلیت: انیس سے پینتیس سال کی عمر کے پاکستانی شہری جن کے پاس کم از کم انٹرمیڈیٹ یا مساوی تکنیکی ڈپلوما ہو۔
- درخواستی پورٹل: youth.gov.pk/employment جو 20 جون 2026 سے فعال ہو گا۔
- پہلی بیچ کی آخری تاریخ: 31 اگست 2026۔
پالیسی کیسے کام کرے گی — قدم بہ قدم
نوجوان درخواست دہندگان کو یوتھ روزگار پورٹل پر رجسٹر کرنا ہو گا اور ایک مہارتوں کا جائزہ مکمل کرنا ہو گا۔ جو لوگ کٹ آف مارک سے اوپر ہوں گے انہیں تین لاکھ روپے تک کی واپسی موصول ہو گی جو منظور شدہ کورسز جیسے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، سولر پینل انسٹالیشن، نرسنگ اور سی این سی مشینری میں ہوں گے۔
آجرین جو اس اسکیم کے تحت نئے نوجوانوں کو رکھیں گے انہیں پندرہ ہزار روپے ماہانہ روزگار سبسڈی ملی گی جو بارہ ماہ تک دی جائے گی اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ اسی ہزار روپے فی ملازم ہو گی۔ یہ سبسڈی براہ راست آجر کے اکاؤنٹ میں تیس دنوں کے اندر جمع کر دی جائے گی۔
جو نوجوان خود کا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں انہیں پچاس لاکھ روپے تک کا خود روزگار گرانٹ صفر فیصد سود پر پانچ سالوں میں واپس کرنا ہو گا جس میں چھ ماہ کی رعایت بھی شامل ہے۔
اہلیت کیا ہے — اور کون اہل نہیں
- ہاں: انیس سے پینتیس سال کی عمر کے پاکستانی شہری جن کے پاس انٹرمیڈیٹ یا مساوی تکنیکی ڈپلوما ہو۔
- نہیں: جو پہلے ہی رسمی شعبے میں کام کر رہے ہیں، سرکاری ملازمین، یا آرٹس/انسانیات میں بیچلر ڈگری رکھنے والے جب تک وہ ترجیحی شعبے میں برجنگ کورس مکمل نہ کر لیں۔
- مخصوص کوٹے: تیس فیصد فوائد خواتین کے لیے، دس فیصد معذور افراد کے لیے اور پانچ فیصد ٹرانسجینڈر افراد کے لیے مخصوص ہیں۔
ابھی یہ پالیسی کیوں اہم ہے
پاکستان میں چھیاسٹھ ملین نوجوان تیس سال سے کم عمر کے ہیں لیکن پچھلے پانچ سالوں میں صرف دو اعشاریہ آٹھ ملین رسمی روزگار پیدا ہوئے ہیں، جیسا کہ منصوبہ کمیشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے۔ نوجوانوں کی بے روزگاری سے معیشت کو ایک اعشاریہ دو کھرب روپے سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے، جیسا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا ہے۔ یہ نئی پالیسی وزیراعظم شہباز شریف کے ’نوجوان پہل‘ ایجنڈے کا حصہ ہے جس میں اپریل 2026 میں بیس ارب روپے کی طالب علم قرضہ اسکیم بھی شامل ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پانچ سو ارب روپے کا بجٹ ایک ملین روزگار کے لیے کافی نہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے رپورٹروں کو بتایا کہ حکومت عوامی نجی شراکت داری اور ملٹی لارل فنڈنگ (ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک) کا استعمال کرتے ہوئے بجٹ کو مزید بڑھائے گی۔
آپ کو آج کیا کرنا چاہیے
1. اہلیت چیک کریں youth.gov.pk/employment پر — آپ کو اپنا شناختی کارڈ نمبر، تعلیمی سرٹیفکیٹ اور پاسپورٹ سائز فوٹو چاہیے۔
2. مہارتوں کا کوئز لیں — یہ دس منٹ کا ہوتا ہے اور آپ کی واپسی کی رقم کا تعین کرتا ہے۔
3. تعلیم کے لیے درخواست دیں — کورسز جولائی 2026 سے لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں شروع ہوں گے۔
4. اگر آپ آجر ہیں تو اپنی کمپنی کو پورٹل پر رجسٹر کریں اور روزگار کی جگہیں اپ لوڈ کریں۔ سبسڈیز پہلی ملازم کی تصدیق کے بعد دی جائیں گی۔
آگے کیا دیکھنا ہے
- پہلی تعلیم کے بیچ 15 جولائی 2026 سے لاہور اور کراچی میں شروع ہوں گے۔
- روزگار سبسڈیز پہلی تصدیق کے بعد 1 ستمبر 2026 سے ادا کی جائیں گی۔
- خود روزگار گرانٹس کے لیے درخواستیں 1 اکتوبر 2026 سے کھلیں گی۔
- درمیانی جائزہ دسمبر 2027 میں لیا جائے گا تاکہ روزگار پیدا کرنے کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔
پورٹل (youth.gov.pk/employment) 20 جون 2026 کو فعال ہو گا۔ فی الحال ہیلپ لائن (0800-12345) روزانہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک سوالوں کے جوابات دینے کے لیے دستیاب ہے۔
آخری بات
یہ پہلی بار ہے کہ کسی پاکستانی حکومت نے نوجوانوں کے روزگار پر ٹھوس تعداد کا ہدف لگایا ہے اور اسے حقیقی رقم سے سہارا دیا ہے۔ کیا یہ ہدف حاصل ہو گا یہ اس بات پر منحصر ہے کہ پورٹل کتنی تیزی سے چلتا ہے، کتنے آجرین شامل ہوتے ہیں اور کیا پانچ سو ارب روپے کا بجٹ کافی ہو گا۔ اگر آدھے بھی روزگار پیدا ہو جائیں تو یہ 1970 کے بعد نوجوانوں کے روزگار کا سب سے بڑا اضافہ ہو گا۔
نوجوان پاکستانیوں کے لیے جو بے روزگاری یا کم روزگار کا سامنا کر رہے ہیں، پورٹل واحد دروازہ ہے۔ آخری تاریخ تک انتظار نہ کریں — پہلی سلاٹ جلد بھر جائیں گے۔
