وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اسٹیٹ آف فیوچر انڈیکس (PK-SOFI) کے حوالے سے اہم پیش رفت کرتے ہوئے اس کی منسوخی کا نوٹس لے لیا ہے۔ یہ انڈیکس طویل مدتی حکومتی منصوبہ بندی کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جسے حال ہی میں سرکاری سطح پر ختم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
یہ منصوبہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری کوششوں کا نتیجہ تھا جس کا مقصد ملکی اداروں کی توجہ مختصر مدتی سیاسی خبروں سے ہٹا کر طویل مدتی ترقیاتی اہداف پر مرکوز کرنا تھا۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اس انڈیکس کی منسوخی سے پاکستان کی منصوبہ بندی کے عمل میں ایک بڑا خلا پیدا ہو سکتا تھا۔
پاکستان اسٹیٹ آف فیوچر انڈیکس کی اہمیت
PK-SOFI کو اس لیے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ ملک کی ترقی کو تعلیم، ٹیکنالوجی اور معاشی استحکام جیسے شعبوں میں اعداد و شمار کی روشنی میں پرکھا جا سکے۔ ایک عام شہری کے لیے، یہ انڈیکس حکومتی جوابدہی کا ایک اہم ذریعہ ہے کیونکہ اس کے بغیر حکومتی اخراجات اکثر سیاسی دباؤ کے تحت ہوتے ہیں نہ کہ زمینی حقائق کے مطابق۔
طویل مدتی منصوبہ بندی کی جانب تبدیلی
وزیراعظم کا حالیہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ حکومت شاید اب ساختی اصلاحات کی طرف دوبارہ غور کر رہی ہے۔ طویل عرصے سے یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ پاکستانی قیادت فوری ریلیف کو پائیدار ترقی پر فوقیت دیتی ہے۔ اس انڈیکس کی بحالی کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت طویل مدتی معاشی استحکام کو ترجیح دینے کے لیے تیار ہے۔
یہ انڈیکس درج ذیل شعبوں کی نگرانی کرتا ہے:
- انسانی وسائل اور تعلیمی معیار۔
- سرکاری شعبے میں ٹیکنالوجی کا نفاذ۔
- عالمی معاشی اتار چڑھاؤ کے خلاف ملکی لچک۔
- ماحولیاتی اور موسمیاتی خطرات کا تجزیہ۔
اب کیا ہوگا؟
فی الحال یہ منصوبہ انتظامی تعطل کا شکار ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ وزیراعظم آفس سے اس حوالے سے جاری ہونے والے حتمی نوٹیفکیشن پر نظر رکھیں۔ اگر حکومت اس منصوبے کو مکمل طور پر بحال کرتی ہے، تو اسے کسی آزاد تھنک ٹینک یا پلاننگ کمیشن کے تحت لایا جا سکتا ہے تاکہ اس کی غیر جانبداری برقرار رہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا موجودہ انتظامیہ واقعی طویل مدتی پالیسی سازی پر عمل پیرا ہونے کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔
