پاکستان میں اگست کے دوران ملک بھر میں معمول سے کم بارشیں متوقع ہیں، جس سے کسانوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس ماہ ملک کے بیشتر حصوں میں خشک سالی کا رجحان غالب رہے گا اور مون سون کی ہوائیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔
اس صورتحال کا براہ راست اثر ملک کے اہم آبی ذخائر اور زرعی اجناس پر پڑے گا۔ پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں فصلوں کو بروقت پانی کی فراہمی کے لیے ٹی اگست میں اضافی انتظامات کرنا ہوں گے۔
زرعی معیشت کو لاحق خطرات
معمول سے کم پی ایم ڈی رین فورکاسٹ کا مطلب ہے کہ کپاس، چاول اور دیگر خریف کی فصلوں کو شدید پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسانوں کو اب نہری پانی کے علاوہ ٹیوب ویلز پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا، جس سے بجلی اور ڈیزل کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ عام صارف کے لیے اس کا مطلب سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔
بجلی اور پانی کے ذخائر پر دباؤ
تربیلا اور منگلا جیسے بڑے ڈیموں میں پانی کے ذخیرہ کرنے کی رفتار سست پڑ جائے گی۔ جب بارشیں کم ہوں گی تو ہائیڈرل پاور جنریشن بھی متاثر ہوگی، جس سے قومی گرڈ پر دباؤ بڑھے گا۔ حکومت کو بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے مہنگے فیول ذرائع کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ زراعت سے وابستہ ہیں یا گھر میں پانی کا استعمال کرتے ہیں، تو فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
- گھروں میں پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ٹینکیاں صاف کریں اور ضیاع روہیں۔
- کسان حضرات آبپاشی کے متبادل اور جدید طریقے جیسے ڈرپ اریگیشن استعمال کریں۔
- بجلی کے بلوں میں کمی کے لیے غیر ضروری آلات کا استعمال کم کریں۔
آئندہ کیا دیکھنا ہے؟
اگلے چند ہفتوں میں محکمہ موسمیات کی اگلی ایڈوائزری پر نظر رکھیں۔ صوبائی زرعی محکمہ جات کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات کا بھی انتظار کریں تاکہ فصلوں کو بچانے کے لیے بروقت قدم اٹھائے جا سکیں۔
