پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے التوا کا شکار حلقوں میں ایک ایک نشست حاصل کرنے کی پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہیں۔ انتخابی نتائج کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ان متنازعہ نشستوں پر دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی عروج پر پہنچ گئی ہے۔

ایل اے 27 اور ایل اے 28 میں انتہائی کم فاصلہ

حلقہ ایل اے 28 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار باسل علی نقوی اپنے مقابل امیدواروں کے مقابلے میں معمولی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ دوسری طرف، مسلم لیگ ن کی نوری عارف کو ایل اے 27 میں دو سو سے بھی کم ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ اتنے کم مارجن کی وجہ سے ایک ایک ڈبے کی تصدیق دونوں جماعتوں کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

  • ایل اے 27: نوری عارف دو سو سے کم ووٹوں کی برتری کے ساتھ آگے
  • ایل اے 28: باسل علی نقوی کو معمولی سبقت حاصل
  • جانچ پڑتال: مقامی انتخابی دفاتر سخت سکیورٹی میں ووٹوں کی گنتی کر رہے ہیں

سیاسی تناؤ اور دھاندلی کے الزامات

نتائج سامنے آنے کے بعد دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان کشیدگی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اس کے جواب میں مسلم لیگ ن نے سختی سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اتحادی جماعت کو شکست خندہ پیشانی سے قبول کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ریٹرننگ افسران کے باضابطہ فیصلوں پر نظر رکھیں۔ مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی یا دوبارہ پولنگ کے لیے دائر کی جانے والی درخواستیں یہ طے کریں گے کہ یہ ابتدائی نتائج برقرار رہتے ہیں یا قانونی جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔